ڈاکوؤں کی وارداتیں، شہری عدم تحفظ کا شکار

تھانہ مندرہ و جاتلی کی حدود میں ڈاکو راج شہری لٹ گئے
سنگھوری میں مسلح ڈاکوؤں کی گھر میں گھس کر غنڈہ گردی، اہلخانہ پر تشدد اور لاکھوں کی لوٹ مار ملزمان کو جلد گرفتار کیا جائے گا ملک تنویر اشرف
چوروں اور ڈاکوؤں نے پولیس کا ناطقہ بند کر دیا، سنگین وارداتوں نے امن و امان کے دعوؤں کی دھجیاں اڑا دیں شہری حلقوں کا اصلاح و احوال کا مطالبہ
گوجرخان (قمرشہزاد) سرکل گوجرخان کے مختلف علاقوں میں لاقانونیت کا جن بوتل سے باہر نکل آیا ہے، جہاں ڈاکوؤں اور چوروں نے پولیس کی رٹ کو چیلنج کرتے ہوئے شہریوں کا جینا محال کر دیا ہے۔ تھانہ مندرہ کے علاقے سنگھوری سرور شہید میں ہاؤس رابری کی ایک لرزہ خیز واردات نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے پولیس نے مقدمہ درج کرکے اپنی تفتیش کا آغاز کر دیا ایس ایچ او ملک تنویر اشرف نے کہا کہ ملزمان کو جلد ہی گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں تھانہ مندرہ کی حدود میں کرائم کا گراف پیک پر تھا جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی اور گشت کے موثر نظام سے کافی حد تک کرائم کے گراف میں کمی آئی ہے۔تفصیلات کے مطابق، جمعہ 30 جنوری کی رات پونے آٹھ بجے، جب لوگ اپنے گھروں میں محصور تھے، 4 مسلح سفاک ڈاکو مظہر حسین کے گھر میں داخل ہوئے۔ ان درندہ صفت ڈاکوؤں نے اسلحہ کے زور پر زین مظہر اور دیگر اہلخانہ کو یرغمال بنا کر ایک کمرے میں بند کر دیا اور مزاحمت پر زین مظہر کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ ڈاکو اطمینان کے ساتھ پورے گھر کو کھنگالتے رہے اور طلائی بالیاں، 35 ہزار نقدی اور موبائل فون چھین کر فرار ہو گئے۔ دوسری جانب تھانہ جاتلی کی حدود بھی جرائم کا گڑھ بن چکی ہے۔ بھیر کلیال میں عمیر یوسف کے قیمتی مویشی چوری کر لیے گئے، جبکہ دولتالہ میں قیصر محمود کے گھر کے تالے توڑ کر طلائی زیورات اور موٹر سائیکل اڑا لی گئی۔ اسی علاقے میں محمد عثمان نامی شہری کو بھی موبائل فون سے محروم کر دیا گیا۔ ان پے در پے وارداتوں نے پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے گھروں اور جان و مال کے تحفظ کے لیے ترس رہے ہیں۔ عوامی حلقوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان بے لگام ڈاکوؤں کو فوری نکیل ڈالی جائے اور عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔



