کالمز

ھمارا ایٹمی پروگرام محفوظ ہاتھوں میں ہے




تحریر: اعجاز علی ساغر اسلام آباد

Twitter: @SAGHAR1214

امریکی صدر جو بائیڈن نے ایک تقریب کے دوران ہرزہ سرائی کرتے ھوئے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو بے قاعدہ قرار دیتے ھوئے کہا ہے کہ پاکستان دنیا کے خطرناک ترین ملکوں میں سے ایک ہے امریکی صدر کا یہ بیان اس وقت آیا جب دونوں ممالک کی طرف سے بہترین ہم آہنگی کی فضا قائم ھوچکی تھی اور امریکن سفیر کی پاکستان میں تعیناتی اس سلسلے کی ایک کڑی تھی۔
امریکہ نے یہ الزامات پہلی بار نہیں لگائے وہ ھمیشہ مطلب نکل جانے پر اپنے اتحادیوں کو اسی طرح نشانہ بناتا ہے اور ڈستا ہے۔
اپنے اتحادیوں کو ڈسنا اسکی پرانی عادت ہے وہ کام لیکر ٹشو پیپر کی طرح پھینک دیتا ہے۔ امریکہ نے ھمیشہ پاکستان کی ناقدری کی ہے ہم نے امریکی جنگ میں 70 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دی ہے اس پرائی جنگ نے ھماری معیشت کا جنازہ نکال کر رکھ دیا لیکن ہم نے اف تک نہ کی اور امریکہ ہر بار ھماری مخلصی کو ھماری کمزوری سمجھتا رہا۔
شاید پاکستان سے بھول ھوگئی وہ اگر 1950 میں امریکہ کی بجائے روس کو چن لیتا تو آج شاید یہ نوبت نہ آتی۔
امریکہ انڈیا کے معاملے میں خاموش کیوں ہے اس کو کیوں سانپ سونگھ گیا ہے؟
پچھلے سال بھارت میں 44 کروڑ روپے کی 7 کلو یورینیم پکڑی گئی اور بھارت میں ایسے کیسز لگاتار سامنے آئے لیکن امریکہ بہادر کا ایک بیان سامنے نہیں آیا جس میں امریکہ نے بھارت کے ایٹمی پروگرام پہ اپنی تشویش ظاہر کی ہو
امریکہ افغانستان میں اپنی شکست کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دیتا آیا ہے پاکستان کو کمزور کرنے کے لیے را، موساد اور سی آئی اے کے ٹرائیکولا نے ملکر کام کیا اندرونی خلفشار سے لیکر بارڈر کے قریب داعش اکٹھی کرنے, بلوچستان میں شورش برپا کرنے ریاستی اداروں کے خلاف پاکستانی عوام کو کھڑا کرنے کے لیے سائبر مہم جس کا ذکر ڈس انفو لیب اسکینڈل میں تفصیل سے کیا گیا ہے۔
ہر طرح کے ہتھکنڈے آزمائے گئے آج امریکہ کو صورتحال موافق نظر آئی تو اگلا بیان داغ دیا
پاکستان کا ایٹمی پروگرام کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم مکمل طور پر محفوظ ہے اور بین الاقوامی ادارے اسکی تصدیق کرچکے ہیں۔امریکہ اپنی عبرت ناک شکست کا اثر ایسے بیانات سے زائل کرنا بھی چاہے تب نہیں کرسکتا۔
اسلحے کی دوڑ اور نمبر ون رہنے کی خواہش پاکستان کو نہیں ہے جن ممالک میں یہ دوڑ ہے ان کے ایٹمی اثاثوں پر بات کی جائے امریکہ اب ماضی کی الزام تراشیاں چھوڑ دے کیونکہ اس طرح ایک ایک کرکے وہ اپنے اتحادیوں کو کھوتا جارہا ہے اور وہ دن دور نہیں جب خطے میں امریکہ تنہا رہ جائے گا اس کا ساتھ دینے والا کوئی نہیں ھوگا۔
امریکی صدر کے اس بیان پر وزیراعظم اور وزیرخارجہ سمیت تمام سیاستدانوں نے سخت احتجاج کیا امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کو وزارت خارجہ بلاکر احتجاجی مراسلہ تھمایا گیا۔
وزیراعظم شہبازشریف نے امریکی صدر کا بیان گمراہ کن قرار دیتے ھوئے کہا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام دنیا کے محفوظ ترین پروگراموں میں سے ایک ہے۔ وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے بھی امریکی صدر کے بیان پر حیرت کا اظہار کرتے ھوئے کہا کہ مجھے صدر جوبائیڈن کے اس بیان پر حیرت ھوئی ہے یہ سوال تو ھمارے ہمسائے ملک سے بنتا تھا کیونکہ انکی طرف سے غلطی سے میزائل فائر ھوگیا تھا ھمارا ایٹمی پروگرام عالمی قوانین کے عین مطابق ہے ھم اپنی ملکی سالمیت کیلئے پر عزم ہیں امید ہے ان بیانات سے ھمارے تعلقات پر اثر نہیں پڑے گا۔ پاکستان سے متعلق بیان کس کو خوش کرنے کیلئے ہے امریکہ پاکستان سے مزید کیا چاہتا ہے افغانستان سے نکلتے وقت پاکستان ہی تو تھا جس نے اپنے دروازے امریکنز کیلئے کھول دیے امریکن فوج کا پہلا پڑاؤ پاکستان میں ہی پڑا کیا پینٹاگون یہ سب بھول گیا ہے امریکہ ھماری قربانیوں کا اعتراف کیوں نہیں کرتا اس کو یہ کیوں نظر نہیں آتا کہ پاکستان نے ہر برے وقت میں اس کا ساتھ دیا ہے یہی قربانی امریکہ بھارت سے مانگ کر دکھائے جو پابندیاں وہ ہم پر لگاتا ہے کوئی ایک ایسی پابندی ھمارے ھمسائے پر لگا کر دکھائے ھماری فوج دنیا کی بہترین فوج ہے جو ھماری بقاء کی ضامن ہے یہ فوج دنیا کی بہترین اور باصلاحیت افواج میں سے ایک ہے ھماری افواج کی صلاحیت اور صبروتحمل کا اندازہ آپ اس بات سے لگالیں کہ انڈین جہاز پاکستان میں حملے کی غرض سے داخل ھوتے ہیں پاکستان ائرفورس ان جہازوں کو مار گراتی ہے انڈین پائلٹ ابھینندن کو زندہ گرفتار کرلیا جاتا ہے پاک فوج اسے بجائے مارنے کے چائے پلاکر اسے بھارت کے حوالے کردیتی ہے جارحیت کا جواب محبت اور بھائی چارے سے دیا جاتا ہے وہ فوج ھمارے ایٹمی اثاثوں کی محافظ ہے وہ جارحیت کا جواب جارحیت سے دینے کی صلاحیت رکھنے کے باوجود صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ھوئے دنیا کو یہ پیغام دیتی نظر آتی ہے کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے,انڈیا روس اور ایران سے گیس خرید سکتا ہے پاکستان نہیں,انڈیا ان ممالک سے سرعام تجارت کرسکتا ہے پاکستان نہیں آخر کیوں؟ کیا ہم ہی امریکہ کیلئے تر نوالہ ہیں وہ ہم پر تو کھل کر پابندیاں لگاتا ہے لیکن ھمارے ھمسائے انڈیا کو مکمل آزادی ہے چاہے وہ جو کرتا رہے۔ وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کو پاکستان سے متعلق اپنی سوچ اور پالیسیاں تبدیل کرنا ھوں گی ورنہ ھمارے لیے آپشنز کھلے ہیں امریکہ کی گرم پانیوں تک رسائی کا خواب پاکستان کے بغیر کبھی پورا نہیں ھوسکتا اور وہ اس خوش فہمی میں نہ رہے کہ وہ ماضی کی طرح دبا کر کام نکلوا لے گا اب دنیا بہت تبدیل ھوچکی ہے ھم مثبت اور دو طرفہ تعلقات کے خواہاں ہیں امریکہ ھم پر بھروسہ رکھے اور ھمیں آگے بڑھنے میں معاونت کرے ہم اسکے بہترین ساتھی ہیں جو ہر مشکل میں اسکے ساتھ کھڑے ہیں وہ ہم پر اعتماد کرکے بہت کچھ حاصل کرسکتا ہے لیکن ہمیں اگنور کرکے شاید وہ ہمارا نقصان کرہی جائے لیکن فائدہ اس کو بھی نہیں ھوگا۔ امریکہ جنگ جدل سے باہر آئے اور اپنی جنگی سوچ تبدیل کرے دنیا میں دوسرے بہت سارے مسائل ہیں امریکہ اور دوسرے بڑے ممالک مل کر ان مسائل کے حل کیلئے کوششیں کریں دنیا کو ہتھیاروں سے پاک کریں اور کوشش کریں کہ آئندہ کبھی کہیں بھی جنگ نہ ھو کیونکہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے صرف اور صرف تباہی ہے۔ آخر میں ایک بار پھر امریکن قیادت کو پیغام دینا چاہوں گا کہ وہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کی فکر چھوڑ دے وہ محفوظ ہاتھوں میں ہیں ھمارا ایٹمی پروگرام ھماری ملکی سالمیت کیلئے ہے ہمارے ایٹمی ہتھیاروں سے کسی ملک کو کوئی خطرہ نہیں ہے پاکستان ایک امن پسند ملک ہے وہ ھمسائیہ ملک بھارت کی جارحیت کے باوجود بردباری اور تحمل کا مظاہرہ کرتا ہے اور خطے میں امن کو فروغ دینے کی بات کرتا ہے امریکہ کو امن پسند پاکستان کے ایسے اقدامات کو سراہنا چاہیئے امید ہے جوبائیڈن اپنے اس بیان پر وضاحت پیش کریں گے اور پاکستان سے متعلق نرم پالیسی کا اعلان کریں گے۔
پاکستان امریکہ سے اچھے اور پائیدار تعلقات کا خواہاں رہا ہے امید ہے آئندہ بھی ان تعلقات میں دراڑ نہیں آئے گی اور امریکہ پاکستان کا دوستی کا یہ رشتہ مضبوط سے مضبوط تر ھوگا..!!

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button