کالمز

ڈراپ سین


ازقلم سہیل اسلم
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے پاکستان کے اداروں سے لیکر حکومتوں کے بننے اور ختم ہونے میں چند ملکوں کا بڑا ہاتھ رہا ہے۔ہم ایٹمی ملک تو بن گئے مگر آفسوس ہم خوددار قوم نہ بن سکے۔اس کے ساتھ ساتھ بہت ساری غلطیاں ہمارے نظام میں بھی پائی جاتی ہیں۔قیامِ پاکستان سے آج تک کسی بھی آپوزیشن نے منتخب ہونے والی حکومت کو تسلیم نہیں کیا۔جس کا نقصان بھی صاحبِ اقتدار لوگوں کی بجائے عام آدمی اور پاکستان کو ہوا۔یہی بڑی وجہ ہے کہ ہم ایٹمی طاقت رکھتے ہوئے بھی دنیا سے تقریباً ہر لحاظ سے پیچھے ہیں۔ہم ایٹمی ملک ہیں لیکن اس کے باوجود ہم دنیا کی مہنگی ترین بجلی استعمال کرتے ہیں۔ہم ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود بھی دنیا میں وہ والا اثرورسوخ قائم نہیں کرسکے جو ایک ایٹمی ملک کا ہونا چاہیے۔پاکستان کو اس گرے ہوئے مقام پر رکھنے کے لیے آج کی نہیں بلکہ دشمنوں کی برسوں کی پلاننگ ہے۔بیرونی قوتوں کو پاکستان کے لیے حکمران بھی وہ چاہییں جو ان کے یس مین بن کر رہیں۔پاکستان میں کسی غیر مذہب کے ساتھ کوئی ناروا سلوک ہو جائے تو اقلیتی قانون سر اٹھا لیتے ہیں جبکہ دنیا میں جگہ جگہ مسلمانوں کو رسوا کیا جاتا ہے شہید کردیا جاتا ہے تو مسلمانوں کے لیے دہشتگردی کا قانون بن جاتا ہے۔موجودہ وزیراعظم عمران خان نے تہیہ کیا کہ شائد وہ ان بیرونی قوتوں کے خلاف کھڑے ہوکر ان کے نا پاک ارادوں کو شکست دے سکیں ۔لیکن ایسا نہیں ہو سکتا کیوں کہ پاکستان میں بیرونی قوتوں کی جڑیں بہت مضبوط ہیں۔آپ ان قوتوں کے خلاف جیسے ہی آواز بلند کریں گے یہ قوتیں آپ کا نام و نشان تک مٹانے کی طاقت رکھتی ہیں۔ہاں البتہ جب کوئی قوم اپنی قسمت بدلنے کا فیصلہ کر لیتی ہے تو دنیا کوئی بھی طاقت اس قوم کو شکست نہیں دے سکتی۔لیکن یہاں بات پھر آفسوس کی ہے کہ پاکستانی قوم کو بھی ہر لحاظ سے محدود رکھا گیا۔
ہمارے سوچنے کی صلاحیت بھی محدود ہماری پرکھنے کی صلاحیت بھی محدود اور سب سے بڑھ کر ہمارے اندر سے قومی انقلابی صلاحیت کو بھی ختم کردیا گیا۔وزیراعظم عمران خان نے پاکستان میں جب آو آئی سی کانفرنس کا انعقاد کروایا تو یہ بات بیرونی قوتوں کو بہت ناگوار گزری۔کیونکہ اس بار کانفرنس میں بجائے ادھر ادھر کی بحث کے صرف مسلم امہ کو ججھنجھوڑنے پر ہی زور دیا گیا۔مسلمانوں کو اپنی اصلی طاقت میں واپس آنے پر زور دیا گیا۔اس سے پہلے اقوامِ متحدہ میں عمران کی اسلام پرستی کی تقریر انڈیا کے دو جہاز گرانے اور اقوامِ متحدہ میں ناموسِ رسالت کی قرارداد منظور ہونے پر اور آمریکہ جیسے سپر پاور کو ملکی خودمختاری میں دخل اندازی روکنے پر جو کفیت بیرونی قوتوں کی ہوئی تو ان کے لیے عمران حکومت کا خاتمہ ناگزير ہوچکا تھا۔جس کے لیے دھمکی آمیز خط اور پیسوں کے بریف کیس چلے وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ہاں ٹھیک ہے کہ عدمِ اعتماد کسی بھی آپوزیشن کا جمہوری حق ہوتا ہے۔لیکن آپوزیشن تو اتنی بھی بے وقوف نہیں کہ اس کو یہ ہی نہ پتہ ہو کہ یہ حق کب استعمال کرنا ہے۔عمران حکومت کا چوتھا سال ہے اگلا سال الیکشن کا ہے تو میرے خیال سے کوئی بے وقوف آپوزیشن ہی ہوگی جو مدت کے ختم ہونے کے قریب آکر عدمِ اعتماد لائے اور کسی بھی حکمران کو سیاسی شہید بننے کا موقع دے۔جبکہ اس بار ایسا ہی ہوا کیوں کہ اس بار جمہوری حق کی بجائے بیرونی حق کو ترجیح دی گئی۔عمران خان خط لہرا لہرا کر کہہ رہے کہ یہ بیرونی سازش ہے جبکہ کوئی ماننے کو تیار ہی نہیں۔دوسری طرف اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی کہہ دیا کہ وزیراعظم یہ خط پبلک نہیں کریں گے۔شائد یہ ہماری تاریخ میں آخری موقع ہوسکتا کہ ہم اس بیرونی قوتوں کے ظالمانہ ڈرامے کا ڈراپ سین کر سکیں۔اس کے لیے اداروں کے ساتھ ساتھ اس قوم کو بھی اسٹینڈ لینا ہوگا ورنہ آنے والا دور شائد اس سے بھی بد ترین غلامی میں گزارنا پڑے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button