اہم خبریں


پاکستان ایئر فورس ویمنز ایسوسی ایشن فلڈ ریلیف کیمپس-2022

*پی اے ایف پریس ریلیز*


16 ستمبر، 2022: حالیہ مون سون بارشوں اور ملکی سطح پر سیلاب سے تباہ کاریوں کے نتیجے میں ابھرتی ہوئی صورتحال، پورے ملک میں انسانیت کے تحفظ کے لیے قومی سطح پر بھرپور کوششوں اور تعاون کی متقاضی ہے۔

پاکستان ایئر فورس ویمنز ایسوسی ایشن (پفوا) ایک فلاحی تنظیم ہونے کے ناطے قدرتی آفات کے دوران متاثرین کی تکالیف کو دور کرنے کے لیے امدادی سرگرمیوں میں ہمیشہ پیش پیش رہی ہے۔ اسی سلسلے میں صدر پفوا بیگم ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو، کی متحرک قیادت میں کمیونٹی سینٹر ائیر ہیڈکوارٹرز اسلام آباد کی ممبران ، بیگم
چیئر مین پی اے سی بورڈ کامرہ ، بیگمات مینیجنگ ڈائریکٹرز، پاک فضائیہ کی ریجنل ائیر کمانڈز، پاک فضائیہ کے ائیر وار کالج انسٹیٹیوٹ سے خواتین اور چیئر پرسنز پفوا کے ہمراہ پاک فضائیہ کی تمام ائیر بیسز پر سیلاب زدگان کے لیے عطیات، کپڑے اور دیگر اشیائے ضروریہ جمع کرنے کی غرض سے پاک فضائیہ کی تمام ائیر بیسز پر مراکز پفوا میں پفوا ریلیف کیمپس قائم کیئے ہیں۔

پاکستان ائیر فورس ویمنز ایسوسی ایشن کی انتھک کاوشوں اور پاک فضائیہ کی خواتین کی بھرپور شمولیت کے نتیجے میں جمع کیئے جانے والے عطیات میں مردوں، خواتین اور بچوں کے ملبوسات کے علاوہ کمبل/لحاف، بستر اور ادویات شامل ہیں۔ جو پاک فضائیہ کی جانب سے ملک بھر میں سیلاب سےمتاثرہ علاقوں میں قائم کردہ فلڈ ریلیف کیمپوں میں بھیجے جا رہے ہیں تاکہ انہیں ضرورت مند اور متاثرہ خاندانوں تک پہنچایا جاسکے۔

پاکستان ائیر فورس ویمنز ایسوسی ایشن کی جانب سے چلائی جانے والی فلڈ ریلیف مہم سے بھی اب تک 2 کروڑ 83 لاکھ روپے جمع کیئے جا چکے ہیں۔ پفوا کی طرف سے جمع کی گئی مالی رقم، پاک فضائیہ کے "فلڈ ریلیف فنڈ” میں جمع کروائی جاچکی ہے۔ ایئر کموڈور شاہد رضا خان، ستارہ امتیاز (ملٹری)، چیف لائزان آفیسر پفوا، نے ایئر مارشل حامد راشد رندھاوا، ہلال امتیاز (ملٹری)، ڈپٹی چیف آف دی ایئر اسٹاف (ایڈمنسٹریشن) کو 2 کروڑ 83 لاکھ روپے کا چیک پیش کیا۔ یہ رقم پاک فضائیہ کی طرف سے سیلاب متاثرین کی امداد اور بحالی کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔

صدر پفوا بیگم ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو، کا ویژن، افسران کی بیگمات کی بھرپور شمولیت اور اس نیک امر میں پاک فضائیہ کی خواتین کا بے لوث جذبہء خدمت قابلِ ستائش ہے۔

*ترجمان پاک فضائیہ*

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button