کالمز

يَوْمُ الْجَوَائِزِ (عید کا دن)


رمضان کے مہینے کی بھوک و پیاس،ریاضتوں اور لذات نفس کی مشقتیں برداشت کرنے کے بعد کھانے پینے سے رخصت ملنے پر جو دلی خوشی ہوتی ہے ، اسی طرح دن کا روزہ، رات کی تراویح خدا تعالی کی جانب سے توفیق فراوانی پر جو خوشی مسلمانوں کو حاصل ہوتی ہے، شرعی دائرے میں رہتے ہوئے اسی خوشی کے اظہار کا نام ” عید الفطر ہے”عیدالفطر دراصل بہت سی خوشیوں کا مجموعہ ہے۔ ایک رمضان المبارک کے روزوں کی خوشی، دوسری قیام شب ہائے رمضان کی خوشی، تیسری نزول قرآن، چوتھی لیلۃ القدر اور پانچویں اللہ تعالیٰ کی طرف سے روزہ داروں کے لئے رحمت و بخشش اور عذاب جہنم سے آزادی کی خوشی۔عید صرف علامتی خوشی اور رواجی مسرت کا دن نہیں ؛ بلکہ مذہبی تہوار ، ملی شعار اور عبادتوں کے بدلے کا دن ہے۔شوال کی پہلی تاریخ کو "عید الفطر”کہا جاتا ہے۔لفط "فطر” لغت میں کسی چیز کے کھلنے اور کھولنے کو کہا جاتا ہے۔اور قرآن میں سورہ انفطار کی آیت إِذَا السَّماءُ انْفَطَرَتْ” میں لفظ انْفَطَرَتْ” اسی باب سے ہے۔ نیز کہا جاتا ہے کہ "تَفَطَّرَتْ” اور انْفَطَرتْ” اسی طرح "افطار” و "عید فطر” بھی اسی باب سے ہیں کیونکہ روزہ دار مغرب اور عید فطر کے دن اپنا منھ کھانے اور پینے کے لئے کھول دیتا ہے۔ اور عید الفطر کی رات یعنی چاند رات کو "ليلة الجائزة "اور عید الفطر کے دن کو ” یوم الْجَوَائِزِ” یعنی انعامات و بدلے کا دن ,حدیث میں کہا گیا ہے ۔حضرت ابن عباس سے موقوفاً مَروی ہے :”يَوْمُ الْفِطْرِ يَوْمُ الْجَوَائِزِ“
عید کا دن ”یوم الجَوَائِز“یعنی انعام ملنے والا دن ہے۔(کنز العمال :24540)
نبی کریمﷺ اس دن کو مذہبی تہوار قرار دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: ”إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا وَهَذَا عِيدُنَا“ (بیشک ہر قوم کیلئے عید کا دن ہوتا ہے اور یہ ہمارا عید کا دن ہے۔(بخاری:952)
امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میرے والد ماجد حضرت امام زین العابدین علیہ السلام عید فطر کی رات مسجد میں صبح تک بیٹھتے یہاں تک کہ صبح کی نماز وہیں پر پڑھتے اس طرح پوری رات شب زندہ داری میں گزارتے اور فرماتے ایے نور نظر یہ رات شب قدر سے کم نہیں ہے۔
اللہ تعالی عید الفطر کے دن فرشتوں کو گواہ بناکر روزہ داروں کی مغفرت فرمادیتے اور ان کے گناہوں کو سیئات سے بدل دیتے ہیں، چنانچہ روزہ دار عید گاہ سے بخشے بخشائے واپس ہوتے ہیں۔عید کا دن جہاں خوشی و مسرت کے اظہار اور میل ملاپ کا دن ہوتا ہے۔ اور وہاں ہی عید الفطر کی رات بڑی فضیلت اور برکت والی ہے، یہ انعام کی رات اور اللہ تعالی سے مزدوری لینے کی رات ہے، اس رات میں اللہ تعالی کی جانب سے اپنے بندوں کو رمضان کی مشقتوں ، قربانیوں اور ریاضتوں کا بدلہ دیا جاتا ہے، دعائیں مقبول ہوتی ہیں ، جنت واجب ہوتی ہے ، دل کو روحانی زندگی نصیب ہوتی ہے۔ وہاں عید کی رات میں کی جانے والی عبادت کی فضیلت عام دنوں میں کی جانے والے عبادت سے کئی گنا بڑھ کر ہے۔ حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:’’جو شخص عید الفطر اور عید الاضحی کی راتوں میں عبادت) کی نیت سے قیام کرتا ہے، اس کا دل اس دن بھی فوت نہیں ہوگا جس دن تمام دل فوت ہوجائیں گے۔‘‘(ابن ماجه، السنن، کتاب الصيام، باب فيمن قام فی ليلتی العيدين، 2: 377، رقم: 1782)حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: "جو شخص پانچ راتیں عبادت کرے، اس کے لئے جنت واجب ہوجاتی ہے۔ وہ راتیں یہ ہیں: آٹھ ذو الحجہ، نو ذوالحجہ (یعنی عید الاضحیٰ)، دس ذوالحجہ، عید الفطر اور پندرہ شعبان کی رات (یعنی شبِ برات)۔‘‘(منذری، الترغيب والترهيب، 1: 182) عید کے دن روزہ رکھنا حرام ہے۔گھر والوں کیلئے کھانے پینے کی چیزوں کے حوالے سے وسعت دینا بھی مستحب ہے۔حضور نبی اکرم ﷺ نے عید کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:حضور نبی اکرم ﷺ نے دو دنوں فطر اور اضحی کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا۔اور پھر ان تمام خوشیوں کا اظہار صدقہ و خیرات جسے صدقہ فطر کہا جاتا ہے۔ تاکہ عبادت کے ساتھ انفاق و خیرات کا عمل بھی شریک ہو جائے۔ یہی وہ وجوہات ہیں جن کی بناء پر اسے مومنوں کے لئے ’’خوشی کا دن‘‘ قرار دیا گیا۔ خوشی ومسرت کے موقع پہ اسلام نے غریبوں کا خاص خیال رکھنے کا حکم فرمایا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: فرض رسول الله زكوة الفطر وقال أغنوهم في هذا اليوم۔غریبوں کی اس دن مالی مدد کرو ۔صدقہ فطر مالی انفاق ہے جس کا حکم حضورنبی اکرم ﷺ نے زکوٰۃ سے پہلے اس سال دیا جس سال رمضان کا روزہ فرض ہوا۔ صدقہ فطر غریبوں اور مسکینوں کو دیا جاتا ہے۔ اس کو فطرانہ بھی کہتے ہیں۔ اس کا ادا کرنا ہر مالدار شخص کے لئے ضروری ہے تا کہ غریب اور مسکین لوگ بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔ علاوہ ازیں صدقہ فطر روزے دار کو فضول اور فحش حرکات سے پاک کرنے کا ذریعہ ہے۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے صدقہ فطر کو اس لئے فرض قرار دیا ہے کہ یہ روزہ دار کے بیہودہ کاموں اور فحش باتوں کی پاکی اور مساکین کے لئے کھانے کا باعث بنتا ہے۔ ابو داؤد، السنن، کتاب الزکاة، باب زکاة الفطر، 2: 28، رقم: 1609
صدقہ فطر کی ادائیگی کا افضل وقت عید کی صبح صادق کے بعد اور نماز عید سے پہلے کا ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ نماز کی طرف جانے سے پہلے زکوٰۃ فطر ادا کرلی جائے۔
بخاری، الصحيح، کتاب الزکاة، باب الصدقة قبل العيد، 2: 548، رقم: 1438
لیکن اگر کوئی شخص صدقہ فطر کسی وجہ سے عید کے روز ادا نہ کر سکا اور بعد میں ادا کیا تو اس کا شمار قضا میں نہیں ہوگا۔ صدقہ فطر کسی وقت بھی ادا کیا جائے وہ ادا ہی ہو گا۔عید ک دن اتحاد واتفاق کا ہمہ گیر پیغام ، غرباء ومساکین کے ساتھ ہمدردی وغمگساری کا مظہر ، انہیں اپنی خوشیوں میں شامل کرنے کا عملی مظاہرہ ,پر مسرت موقع پر اعتدال وتوازن کی انوکھی مثال، اسلامی، روایات، اقدار، تہذیب وشائستگی کا خوبصورت جشن، مہینہ بھر کی جسمانی ریاضتوں پہ ﷲتعالی سے انعامات لینے، گناہوں,غلطیوں اور مولا کی نا فرمانیوں سے پاک و شفاف ایک نئی زندگی گزارنے کیلئے ﷲ تعالی سے تجدید عہد کا دن ہے۔ گناہوں کی بخشش کروانے کا حسین دن، اپنے اعمال کا جائزہ لینے ، اخوت، بھائی چارگی، تحمل مزاجی، مساوات انسانی ، سماجی ہم آہنگی ،بھوکوں، مظلوموں اور بدحالوں کی داد رسی اور ان کے دکھ درد میں تڑپ اٹھنے کا جذبہ پیدا کرنے کا دن ہے، خدا ہمیں عید کی حقیقی خوشیوں ، مسرتوں اور پیغام سے مالا مال فرمائے۔ آمین ثمہ آمین۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button