کہانیاں / ناول

ناول : "قلبِ شناسائی”


از : سویرا عارف مغل

قسط نمبر 1

"آج نکاح ہے تمہارا ۔ جلدی کرو! تیار ہو بھی جاؤ اور کتنی دیر لگاؤ گی تمہیں نہیں پتا تمہارے ابو کب سے انتظار کررہے ہیں-"
ہانیہ کی امی نے گھبرانے والے انداز میں کہا ۔
ہانیہ : ” جی امی میں آرہی ہوں فاطمہ کے ساتھ بس تھوڑی سی دیر لگے گی۔ "
فاطمہ:” آپی تم پریشان نہیں ہو ؟ ایک اجنبی انسان کے ساتھ آج تمہارا نکاح ہونے جارہا ہے جس سے تم بس ایک بار ملی ہو وہ بھی خود اپنی رسم پر ہی ایسے کیسے ساری زندگی گزرے گی تم دل سے راضی تو ہو ناں؟ "
ہانیہ :” دیکھو اب کچھ بھی نہیں ہوسکتا امی ابو نے ہاں کردی ہے اور ماں باپ کا جو فیصلہ ہوتا ہے وہی سب سے بہتر ہوتا ہے اور بیٹیوں کے لیے ان کے والدین ہی سب سے بہتر فیصلہ کرسکتے ہیں ۔”
فاطمہ : "پھر بھی آپی سوچ لو ابھی بھی وقت ہے تمہارے پاس ! "
ہانیہ : ” اب کونسا وقت بچا ہے فاطمہ ؟ عجیب باتیں نہ کرو ادھر آؤ میرا دوپٹہ سیٹ کرو جلدی سے پہلے ہی بہت دیر کردی ہے تم نے میرے بال بنانے میں ۔”
ہاجرہ ( ہانیہ کی والدہ) : ” تم لوگ تیار نہیں ہوئیں ابھی تک؟”
ہانیہ:” امی چلیں بس ہوگئے ۔”
فاطمہ: "آپی تم بالکل اچھی نہیں لگ رہی ہو ۔”
ہانیہ :” تمہیں تو میں بعد میں ٹھیک کرتی ہوں۔”

دو دن بعد ۔

ہاجرہ :” ہانیہ بیٹی ! تمہارے سسرال والے کہہ رہے ہیں ماہ رمضان میں ہم رخصتی کرلیں گے ۔”
ہانیہ:” امی یہ بہت زیادہ جلدی نہیں ہے کیا؟ صرف دو ماہ کا ہی وقت لیا ہے آپ نے اور بابا نے ؟”
ہاجرہ : "دو ماہ ہی کافی ہوتے ہیں تمہیں نہیں پتا اور ویسے بھی لوگوں کے رویے بدلنے میں زرا سی دیر لگتی ہے بس اگر وہ دو ماہ بعد کا کہہ رہے ہیں تو بس ٹھیک ہے میں نے اور تمہارے بابا نے سوچ لیا ہے کہ دو ماہ بعد تمہیں رخصت کردیں گے تھوڑا بہت جتنا بھی جہیز بنا اسی کے ساتھ چپ چاپ ۔”
فاطمہ :” ارے امی جان ! جمعہ جمعہ چار دن بھی نہیں ہوئے ابھی آپی کے نکاح کو تو آپ لوگوں کو آپی کو رخصت کرنے کی اتنی بھی کیا جلدی پڑگئی ؟
نہ آپ لوگوں نے دولہے بھائی سے صحیح طرح بات کرنے دی پتا نہیں ان کے مزاج کیسے ہوں گے دوسری بات نہ آپی سے ابھی تک ان کی کوئی بات چیت ہوئی تو پھر ایسے کیسے اور آپ لوگ اپنی بیٹی کو رخصت کرنے پر رضا مند ہوگئے واہ! کیا یہ اتنی بری لگتی ہیں آپ کو یا ان کا اتنا بوجھ ہے ہم سب پر؟”
فاطمہ نے مسکرانے والے انداز میں کہا:
ہاجرہ :” تمہیں پہلے بھی کتنی بار کہا ہے بڑوں کے معاملے میں تمہارا کوئی کام نہیں ہے اور تمہارے لیے بہتر یہی ہے کہ اپنے کام سے کام رکھو پڑھائی کررہی ہو ناں اپنی ؟ تو لہذٰا اسی پر توجہ دو ۔”
فاطمہ :” کرکے دیکھ لیں آپ لوگ اپنی مرضیاں بھی پتا چل جائے گا کیا انجام ہوتا ایسی بے وقوفیوں کا – "
ہانیہ :” اچھا میرے ہاتھ دیکھیں آپ لوگ اگر آپ سب کا بس چلے تو مجھے ابھی لاہور کی بس میں بٹھا کر روانہ کردیں میں بس آپ لوگوں کی انہی سب باتوں کی وجہ سے تنگ آجاتی ہوں اور امی جان آپ لوگ نہیں جانتے مگر اب زمانہ بہت بدل چکا ہے ٹھیک ہے میں اپنے والدین کی عزت کی خاطر ان کی پسند سے شادی کرنے کے شروع سے ہی حق میں تھی مگر میں نے ایسا بھی ہرگز نہ سوچا تھا کہ آپ مجھے اتنا بھی وقت نہیں دیں گے کہ میں اس انسان کو سمجھ سکوں جس کے ساتھ میں نے اپنی ساری زندگی گزارنی ہے رسم اور نکاح تو میں نے آپ لوگوں کے کہنے میں آکر کرلیا مگر اب کم از کم انہیں ہمیں اتنا تو وقت دینا چاہئیے ناں کہ کچھ انتظامات وغیرہ کرسکیں اور فاطمہ بجا ہے ادھر۔ امی شادیاں ایسے نہیں ہوتیں اتنی بھی جلدی کیا ہے انہیں رخصتی کی کم از کم ایک سال کا وقت تو آپ لوگوں کو لینا چاہئیے تھا ناں اتنی جلدی میں ایک انجان انسان کا رشتہ آنے پر آپ لوگوں نے میرا نکاح اس کے ساتھ کردیا ہے جیسے مجھے سر سے اتارا ہو بس ۔”
ہاجرہ : ” چلو جی ! اب یہ چپ نہیں ہوگی ہانیہ کتنا دماغ کھاتی ہو اگلے گھر جاکر اپنی زبان پر قابو رکھنا تمہیں بھی فاطمہ کا اثر ہوگیا ہے لگتا ہے اس کی تو میں ہڈیاں توڑتی ہوں ابھی -"
ہانیہ : "ٹھیک ہے جیسے آپ لوگوں کو مناسب لگے ویسے بھی سننی تو میری ادھر کسی نے ہے بھی نہیں -"
فاطمہ : "لیکن آپی ایک بار پھر سوچ لو ۔”
ہانیہ :” فاطمہ ! "
ہانیہ نے دانت پیستے ہوئے فاطمہ کو گھورتی آنکھوں سے دیکھا ۔
فاطمہ : ” اچھا آپی ! "

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button