کالمز

غرور کا سر نیچا ہوتا ہے


سدرہ اختر

واقع یہ بات سچ ہے کہ غرور کا سر ہمیشہ نیچا ہوتا ہے چاہے غرور کرنے والے کی زات و صفات کتنی ہی اونچی ہو۔
میں نے ساتویں جماعت میں ایک سبق پڑھا تھا کہ ہاتھی کا غرور ہی اس کو لے ڈوبا اس کو اس بات کا گھمنڈ تھا کہ وہ جنگل کا سب سے بڑا جانور ہے کوئی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا لیکن کچھ چڑیوں نے اس کا یہ غرور توڑ دیا اور اس کا وجود مٹا دیا۔

ایک تعفن غرور کی دنیا
عاجزی میں نجات کی خوشبو
اپنے اپنے مزار میں واصف
اپنی اپنی صفات کی خوشبو

انسان ریگستان میں موجود اس ریت کی مانند ہے جس کو ایک ہوا کا جھونکا چٹکیوں میں اڑا کے جاتا ہے مقصد کہ انسان کی زندگی کا ایک پل بھی بھروسہ نہیں آج ہے تو کل نہیں صبح تو شام نہیں کون جانے؟تو اسے اپنے وجود پر غرور کیسا وہ بھی اس وجود پر جس کا اسے خود پتہ نہیں کہ کب مٹ جائے۔
غرور کرنے والے انسان کے آس پاس کوئی نہیں ہوتا اس سے کوئی بات کرنا پسند نہیں کرتا یہاں تک کہ کچھ کی موجودگی پر بھی چڑ ہوجانے لگتی ہے۔ایسا انسان خود کہ اندر ہی دفن رہتا ہے لیکن یہ تو طے ہے نہ کہ ایسے انسان کو ایک نہ ایک دن جھکنا پڑتا ہے اپنے غرور کو توڑنا پڑتا ہے لیکن جب اس کا غرور ٹوٹتا ہے تو وہ اپنے آپ کو بالکل تنہا پاتا ہے کیونکہ اس کے رویوں نے سب کے منہ موڑ دیے ہوتے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button