کالمز

عبادت اور حقوق العباد

حفصہ ایمان(چیچہ وطنی)
ہم مسلمان صرف اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ عبادت فرض ہو یا نفلی سر ہمیشہ اللہ کے آگے ہی جھکتا ہے۔ اور اگر عبادات میں کوتاہی ہو جائے تو وہ خدائے بزرگ و برتر ہماری ان کوتاہیوں کو معاف فرما دیتا ہے۔ اللہ نے تو خود فرمایا ہے ”تم مجھ سے توبہ طلب کرو میں تمہیں معاف کروں گا” اس کے پاس رحمتوں کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر ہیں مگر اسے محبت صرف تمہارے اک آنسو سے ہے۔ تمہاری توبہ کا آنسو، ندامت کا آنسو۔۔۔ لیکن دوسری طرف اس نے کچھ حقوق بھی قائم کیے ہیں، اپنے بندوں کے حقوق۔ جنہیں حقوق العباد کہا جاتا ہے۔ یہاں اس نے کوئی چھوٹ نہیں رکھی۔ وہ کہتا ہے ”حقوق العباد تب تک معاف نہیں کروں گا جب تک بندہ خود معاف نا کردے” حقوق اللہ وہ معاف کردے گا، یہ اس کا اور اس کے بندے کا معاملہ ہے کیونکہ وہ رحیم ہے، کریم ہے، معاف کردینا اس کی صفت ہے وہ اپنے بندے کو روتا ہوا دیکھ لے تو اس کے آنسوؤں کی لاج رکھ لیتا ہے مگر جو بندے کا بندے سے معاملہ ہے وہ الگ ہے۔ اس معاملے میں وہ خاموش رہتا ہے تب تک جب تک درد سہنے والا، تکلیف برداشت کرنے والا معافی نہیں دے دے۔ اس کی مخلوق کو تنگ کرو گے، اس کے بندوں کا دل دکھاوُ گے، کمزور کو نیچا دِکھاوُ گے تو وہ بلکل معاف نہیں کرے گا۔ماں کا دل دکھتا ہے نا جب اس کے کسی بچے کو کوئی مارتا ہے، پریشان کرتا ہے یا کسی قسم کی کوئی ایذاء پہنچاتا ہے۔ تب ماں روتی نہیں ہے وہ خاموش ہوجاتی ہے بلکل خاموش کہ فلاں بندے نے میری اولاد کو تکلیف پہنچائی ہے، پریشان کیا ہے تو میں اس کو کیوں سنوں؟ میرے بچے نے اگر کچھ غلط کیا تھا تو مجھے بتاتے آکر، مجھ سے شکایت کرتے اسے درد کیوں دیا؟ وہ ناراض ہوجاتی ہے اور اس بندے سے تب تک ناراض رہتی ہے جب تک اس کا بچہ معاف نہیں کردے تو میرے دوستو! یہی معاملہ میرے رب اوراس کی مخلوق کا ہے اور پھر اللہ تو اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے وہ اپنے بندے کو درد میں دیکھ کر درد دینے والے سے بھلا کیونکر خوش ہوگا۔۔۔ مخلوقِ خدا پہ رحم کرنا سیکھو تاکہ تم پہ بھی رحم کیا جائے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button