کالمز

زندگی کی حقیقت


ازقلم :رخشندہ بیگ
کراچی
زندگی اللہ کی دی ہوٸی نعمت ہے ۔اور نعمتوں کی قدر کی جاتی ہے ،کیوں کہ نعمتوں کا حساب بھی دینا پڑتا ہے ۔اب سوال یہ ہے کہ زندگی کی حقیقت کیا ہے ۔؟
زندگی اے زندگی ،تیری حقیقت کیا ہے ؟ جو نوازنے پر آٸے تو فقیری میں بادشاہت کا مزہ دے جاٸے ۔جو چھین لینے پر تل جاٸے تو ایک قطرہ خوں نہ چھوڑے زندگی کا حسن اور اس کی بد صورتی دونوں ہی اپنے اپنے مقام پر سخت آزماٸش کا باعث ہیں ۔زندگی جن خوش نصیبوں پر اپنا حسن آشکار کرتی ہے وہ اسے چھوڑنا نہیں چاہتے اور جن کو اس کی بدصورتی سے پالا پڑتا ہے ان سے یہ گزاری نہیں جاتی زندگی پرت در پرت ایک گہرا راز ہے جو اس کی کھوج میں رہا وہ بھی ہارا ،اور جس نے پالیا اس نے تمام جستجو کو لا حاصل جانا ۔زندگی نہ تو اتنی سادہ ہے ،جتنی بظاہر نظر آتی ہے ۔اس میں بہت پیچ ہیں اس کے رنگ بہت متنوع ہیں ۔یہ جہاں بہت ہمدرد ہے وہاں بہت ظالم اور سفاک بھی ہے جو گزاری نہ جا سکی ہم سے
ہم نے وہ زندگی گزاری ہے زندگی کی سب سے بڑی حقیقت موت ہے جو برحق ہے ۔ہم اس رنگ بدلتی زندگی کے کسی رنگ سےواقف یوں یا نہیں مگر موت ایک ایسا رنگ ہے ،جو اٹل ہے اور ہر جاندار کو اس رنگ کا مزہ چکھنا ہے اس ناپاٸدار اور بے وفا زندگی کے مختصر وقت اور فانی خواہشات کے لٸے ہم کیا کیا حربے آزماتے ہیں ۔اپنی داٸمی زندگی کی لافانی خوشیوں کو اس روپ بدلتی زندگی کی خاطر کس قدر آرام سے داٶ پر لگا دیتے ہیں ۔کس قدر گھاٹے کاسودا کر بیٹھتے ہیں اللہ رب العزت نےبھی فرمایا ہے ”زمانے کی قسم بےشک انسان خسارے میں ہےمحلات ،آساٸشات ،اقتدار ،انا ،تکبر غرور اور اس کے لٸے کی گٸ تگ ودو، نفس کی پیروی ،ضمیر کا سودا اس دنیا کے لٸے اس فانی زندگی کے لٸے بے کار ہے ۔گھاٹا ہے۔ سراسر نقصان ہے ۔پر سمجھنے والوں کے لٸے ۔ماننے والوں کے لٸے ہدایت کی راہیں کھلیں ہیں یہ زندگی وہ راستہ ہے جس کی منزل صرف موت ہے عمر دراز مانگ کے لاٸے تھےچار دن دو آرزو میں کٹ گٸے دو انتظار میں یہی زندگی ہے ۔آرزوں اور خواہشوں کی دوڑ میں اور ان کی تکمیل کی خاطر دوڑتے دوڑتے کب انسان کا وقت پورا ہوجاتا ہے اسے پتہ ہی نہیں چلتا ۔اور یہ کھلونا چلتے چلتے رک جاتا ہے ۔واپسی کا وقت ہو جاتا ہے اور انسان اپنی تمام تشنہ خواہشات کے ہمراہ قبر کی آغوش میں سما جاتا ہے ۔بس زندگی کی اتنی ہی حقیقت ہے ۔مٹی سے بنا انسان مٹی میں مل جاتا ہے زندگی کی سچاٸی کو جو پاگیا اس نے اپنے آپ کو بچا لیا گہرے غم اور اندھیرے سے ۔وہ کامیاب ٹہرا جس نے اپنی خواہشات محدود کرلیں ۔رب کی رضا اوربندگی کے آگےسر تسلیم خم کردینے والے ہی کامیاب ہو پاتے ہیں زندگی کی کڑواہٹ جو شہد میں لپٹی دکھاٸی دیتی ہے، دھوکے کے سوا کچھ نہیں ۔
آخر میں میری ایک غزل زندگی پر لکھی ہوٸی سوچتی ہوں زندگی پہ ایک کتاب لکھوں
جو مجھ پہ گزرے وہ سارے عذاب لکھو جو لکھ سکوں تو انگلیاں تراش کر اپنی
ہوا کے ہاتھوں پہ سارے جواب لکھوں کس مشکل سے بسر ہوئی ہے مجھ سے
کتاب زیست کے وہ سارے حساب لکھوں
میرے نام سے جو منسوب ہوئے ہیں
اک، اک کرکے وہ سارے ثواب لکھوں
دوڑتی رہی جس کے تعاقب میں تمام عمر
جو میری آنکھوں میں تھا وہ خواب لکھوں
اے زمیں اب کھول بھی دے آغوش اپنی
ہوں تیری گود میں سمانے کو بے تاب لکھوں

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button