کالمز

زندگی کی حقیقت

عروج فراز۔۔
فیض احمد فیض کا نہایت خوبصورت شعر زہن میں رونما ہوگیا کے
زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ھے
ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں
دیکھا جائے انسان ہمیشہ حقیقتوں سے بھاگتا پھرتا ھے چاھے کیسی حقیقت بھی ہو مثلاً اک بچہ کمرہ امتحان سے باہر نکلتا ھے اسکا پرچہ ویسا نہیں ہوتا جیسا ہونا چاھیے تھا لیکن وہ خود کو پر سکون کرنے کی کوشش کرتا یعنی فیل ہونے کی حقیقت سے بھاگتا اسی طرح اک کاروباری بندہ اگر کاروبار شروع کرے تو وہ زہن میں بہت سے فوائد کو مد نظر رکھتا اور بہترین مستقبل کے سُہانے خواب سجاتا جبکہ وہ کاروبار میں نقصان ہونے کی حقیقت سے چھپتا پھرتا اسی طرح دنیا میں آج ھم انسان ذندگی کی حقیقتوں سے بھاگتے پھرتے ہیں ھم دنیاوی رہن سہن لباس کھانا پینا اسی میں مشغول ہیں اور سب سے بڑی حقیقت کو جھٹلا رھے یعنی کے بارگاہ الہی میں خاظری دینے کی یعنی ہماری ابدی ذندگی آج ھم دولت شہرت کے لیے پسینہ بہاتے ہیں کے کچھ ہو جائے اور ایک ہی مقصد زہن نشین ہوتا ھے وہ ھے پیسہ بنانا اگر غربت ھے ھم اس میں خوش نہیں امیری ھے تو زیادہ سے زیادہ کی حرص ھے جو بھی ھے جیسا بھی لیکن ہماری یہ ذندگی اتنی آسان سہل نہیں اسکے کئی چکر ہیں انسان جس طرح یہ دنیا گھول ھے اسی طرح یہ دنیا انسان کو گھول گھول گھماتی اور ھم اپنے اصل مقصد کو چھوڑ کر اس فانی جہان میں گم ہیں اور ذندگی کی حقیقت سے انکاری ھیں یعنی کے اپنے رب کے خضور جانے سے ڈرتے حوفزدہ ہیں اصلی حقیقت تو وہ ھے مگر ھم پہچاننے سے قاصر ہیں اور ھم اس دنیا میں کئی کڑوے گھونٹ پیتے ہیں جھوٹ سچ کا سہارا لیتے ہیں صرف اپنے عیش و آرام کے لیے حالانکہ یہ مقصد حیات نہیں اصل کچھ اور ھے اسکے برعکس ھم انسان کسی حال میں خوش نہیں زرا کمی تنگی دیکھیں اپنے رب سے گلے شکوے شروع کر دیتے ہیں اور بہت دفعہ خود کشی کے حادثات سامنے رونما ہوتے ہیں وجہ پوچھنے پہ جواب ملتا دنیاوی دنیاوی تنگی کیا ہماری زندگی اتنی سستی ھے نہیں ہرگز نہیں اسی لیے خود کشی جیسے فعل کو اسلام میں حرام قرار دیا گیا رب کے نزدیک ہماری جانیں بہت قیمتی ہیں اگر ھم زکر الہی کے لیے وقف کر دیں تو دنیا آخرت سنور جائے بہر حال انسانی زندگی کی حقیقت ابدی زندگی ھے جس سے ھم منہ نہیں موڑ سکتے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button