کالمز

تعلیم یافتہ یا ڈگری یافتہ

تحریر وارث دیناری
تعلیم ہرانسان کا بنیادی حق ہے۔ مرد عورت امیر غریب تعلیم سب کی ضرورت۔ انسان اور حیوان میں فرق تعلیم ہی کی بدولت ہے تعلیم ہی کی وجہ سے انسان کو اشرف لمخلوق کاخطاب ملا ہے اسلام میں تعلیم حاصل کرنے کو فرض قرار دیا گیا۔ اس لئے اسلام میں علم حاصل کرنے کی بہت زیادہ تلقین کی گئی ہے۔ علم کی اہمیت اس سے ثابت ہوتی ہے کہ وحی کا پہلا لفظ بھی اقرا سے شروع ہوتا۔ہمارے پیارے بنی حضرت محمد مصطفی ﷺ نے فرمایا علم مومن کا کھویا ہوا میراث ہے۔جہاں سے ملے لے لو
تعلیم حاصل کرنے کا مقصد صرف سکول کالج یونیورسٹی یا کسی مدرسے سے سند ڈگری لینا ہے بلکہ اس کے ساتھ تہذیب ،تعمیز بھی سیکھنا ہے علم وہ زیور ہے جو انسان کے کردار کو سنوارتی ہے۔محض چند کتابیں پڑھنے یا کوئی اعلیٰ سرکاری عہدہ حاصل کرنے یا معلومات کا ذخیرہ رکھنے سے کوئی اہل علم نہیں بن سکتا ہے۔اہل علم یا عالم اسے کہتے ہیں جو لوگوں کیلئے خیر بانٹے لوگوں کیلئے آسانیاں پیدا کرے۔جو اپنے قول اور فعل سے ثابت کرے۔ کہ اس کا وجود معاشرے کیلئے خیر کا باعث ہو لوگ ان کے پاس بیٹھ کر ٹھنڈک محسوس کریں ایک بار ملنے کے بعد لوگ بار بار ملنے کی تمنا کریں۔لیکن افسوس کچھ لوگوں کا عمل اور کردار دیکھ کر مجھے مولانا رومی کا یہ قول یا د آتاہے۔ انھوں نے فرمایا کہ بعض لوگ کے عمل دیکھ کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ گدھے پر کتابیں رکھ دی گئی ہیں۔سوائے بوجھ اٹھانے کی انھیں کچھ فائدہ نہیں ہوتا ہے۔میرے استاد پروفیسر قادر بخش سمجھو صاحب ہمیشہ کہا کرتے ہیں کہ بعض لوگ بیشک چاہئے کتنے بھی پڑھے لکھے ہوں دنیا جہاں کی ڈگریاں ان کے پاس ہوں لیکن وہ اپنے روئیے اور کردار سے کسی بھی صورت میں تعلیم یافتہ نہیں لگتے اس لئے ہر پڑھے لکھے کو آپ اہل علم یا عالم نہیں کہہ سکتے ہو وہ اپنے عمل سے ہی ثابت کرسکتا ہے کہ وہ کیا ہے۔جبکہ کئی ان پڑھ آپ کو انتہائی سمجھدار باشعور باکردارملیں گئے۔اس لئے آپ ایسے باشعور افراد کو ان پڑھ تو کہہ سکتے ہولیکن جاہل نہیں آپ کوکئی ڈگری یافتہ جاہل ملیں گئے۔اس بات کا عملی مظاہر گزشتہ روز اس وقت دیکھنے کو ملا۔جب ڈائریکٹر ایجوکیشن سکولز بلوچستان اور ڈسٹرکٹ جعفرآبادڈسٹرکٹ اور اوستہ محمددو ضلعوں کا چارچ رکھنے والے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن نے اوستہ محمد کے مختلف سکولوں کا دورہ کرکے بارشوں سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا۔دلچسپ اور پریشان کن صورت حال اس وقت پیدا ہوئی۔ جب مختلف گرلز ہائی سکولزجوڈیڈ بجے چھٹی کرتے تھے۔جب طالبات ڈھائی بجے تک بھی گھر نہیں پہنچے والدین کو سخت پریشانی لاحق ہوگئی ہر ایک نے اپنی بچیوں کو لینے کیلئے گرلزہائی سکولز کا رخ کیا۔سکولزمیں پہنچ کر معلوم ہوا ہے کہ ڈائریکٹر ایجوکیشن کا آفیسران بالا کے ساتھ سکولوں کا وزٹ فرمانے آرہے ہیں اور یہاں پر بھی ان کی آمد متوقع ہے اس لئے چھٹی نہیں کررہے۔پہلی بات یہ کہ گرلز سکولز کا دورہ لازمی تھا تو سب سے پہلے گرلزسکولز کا دورہ کرتے۔دوسری بات یہ کہ والدین کو ایک دن قبل اس دورے کا بتایا جاتا۔تیسری بات دورہ بارش سے سکولوں کو ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے کیلئے تھا تو پھر طالبات کا کیا کام ہے سکول میں جو ان کوگھنٹوں بھوکھے پیاسے رکھا گیا ہے اس دوران کئی بچیوں کی حالت غیر ہونے کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔بیک وقت پریشانی کے عالم میں بچیوں کو لینے کیلئے آنے والے افراد کی گاڑیوں اور دیگر سواریوں سے کافی دیر تک روڈ بلاک نظر آئے۔جب اس غیر ذمہ داری کے بارے میں معلومات لینے کی کوشش کی گئی تو کسی نے کہہ دیا کہ ہم نے چھٹی نہ کرنے کا نہیں کہا یہ تو گرلزسکولز کے ہیڈ مسٹریس ہی کاکام ہے ہم نے کب کہا ہے چھٹی نہ کریں۔بات یہ نہیں ہے کہ ایسا کرنے کو کس نے کہا ہے۔لیکن ہیڈمسٹریس نے نہیں کہا کسی نے بات چھپائی گئی ہے۔تاہم یہ کام جس نے بھی کیا بہت غلط کیا انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔پڑھا لکھا انسان حالات اوروقت کی نزا کت سمجھ سکتا ہے۔کیونکہ بلوچستان کے قبائلی ماحول میں نہ جانے کس طرح لوگ اپنی بچیوں کو تعلیم دے رہے ہیں۔اس طرح کے عمل کا ہرگز ہمارے لوگ متحمل نہیں ہوسکتے ہیں۔سکولوں کا دورہ کرکے فوٹوسیشن کرنے یا کسی بچے کو گود میں بیٹھا کر تعلیم کا معیار بہتر نہیں ہوسکتا ہے اس کیلئے عملی مظاہر کرنا ہوگا بچوں کو گود میں اٹھانے کیلئے بیچاری انجلیانا جولی ہی کافی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button