کالمز

تعلیم نسواں کے بنیادی مقاصد فکر اقبال کی روشنی میں

تحریر ثنا خالد، لاہور
اقبال کے کلام و پیام میں نظریہ تعلیم صرف علم کا حصول ہی نہیں بلکہ تعلیم و تربیت سے وابستہ ہے۔ اقبال دینی اور دنیاوی تعلیم میں باہمی ربط اور تعلق کو لازم قرار دیتے ہیں۔ تعلیم کا اصلاحی مفہوم ایک ایسا درس حیات ہے جو پیغمبر کی ہدایات اور ارشادات کی صورت میں ہم تک پہنچا۔ آخری پیغمبر کودیا گیامعجزہ ‘‘کتاب ’’کی صورت میں ہمیں تھمایاگیا ۔ فکر اقبال کا بنیادی ماخذ بھی قرآن حکیم ہےاس لیے اقبال کے نزیک وہ علم جس کا کوئی مقصد نہ ہو بے کار ہے۔ امام رضا عابدی اپنی کتاب میں اقبال کے نظریہ تعلیم کو یوں بیان کرتے ہیں کہ
‘‘ علم اپنی وسعت کے باوصف، اگر اسلام کے تابع نہ ہوتو وہ شیطان ہے، ابو لہب ہے۔ضروری ہے کہ تمام علوم ،قرآنی ہدایت کے تابع ہوں نہ کہ اس کو اپنے تابع بنائیں۔جب تک قرآن ، علوم پر حاکم نہ ہو گا، علوم نا مسلمان رہیں گے۔اسی حقیقت کو اقبال نے کس خوبی سے بیان کیا ہے’’
خوشتر آں باشد مسلمانش کنی
کشتہ شمشیر قرآنش کنی
ارشاد باری تعالی ہے: ‘‘ جو تم میں سے ایمان لائے اور جنھیں علم دیا گیا، اللہ تعالی ان کے درجات بلند فرما دے گا’’
حدیث نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہے کہ
علم حاصل کرنا ہر مسلمان (مرد و عورت ) پر فرض ہے۔
اقبال نے بھی انھی اسلامی تعلیمات کی بنیاد پر قوم کی منزل کا تعین کیا ۔ جیسا کہ حدیث کے مطابق علم کا حصول مرد اور عورت دونوں کے لیے لازم ہےاسی لیےقدرت نے دونوں کی تخلیق الگ الگ دائر ہ کار میں اپنی ذمہ داریاں اداکرتے ہوئے ایک زندہ اور جاندار قوم کی تخلیق کا باعث بننے کے لیے کی ہے چنانچہ اقبال بھی مرد اور عورت کے لیے مساوی تعلیمی نظام کے قائل نہیں ۔ اقبال کے نزدیک مرد کی تعلیم واحد کی تعلیم ہے جب کہ عورت کی تعلیم پورےخاندان کی تعلیم ہے جو اولاد کی نگہداشت اور تربیت کی صورت میں عیاں ہوتی ہے۔ مرد کو جلوت کی اور عورت کو خلوت کی ضرورت ہے۔ مرد اورعورت دونوں مل کر زندگی کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ باہمی ربط اور ہم آہنگی سے چلتے ہیں۔ جب کہ آزادی نسواں پوری ذمہ داری عورت پر چھوڑ دیتی ہے کہ وہ خود سوچے اسے کیا کرنا ہے۔
مرد کی ذمہ داری عورت کی کفالت اور حفاظت ہے جس کا بالواسطہ فائدہ بھی عورت کی ذات کو پہنچتا ہے۔ گھر کی ذمہ داری ایک الگ نظام ہے جس میں عورت مرد کی شریک حیات ہی نہیں بلکہ گھر کی نگران بھی ہے اور اقبال کی فکر میں ایسا نصاب تعلیم نظر آتا ہے جو عورت کو اس کے فرائض اور صلاحیتوں سے آگا ہ کرے،عورت کو وہ شعور دے کہ گھر کو قید کانہ نہ سمجھے کیونکہ گھر سے آزاد عورت کی زندگی مزید پیچدگیوں کا شکار ہو جاتی ہے۔
اقبال کی شاعری کی انفرادیت بھی یہی ہے کہ انھوں نے عورت کے حسن و جمال کو نہیں بلکہ عورت کے مقام کو موضوع بنایا۔ یہ انفرادیت اقبال کو دیگر شعرا سے ممتاز بناتی ہے۔ سر سید کی تحریک نسواں اور اکبر الہ آبادی کی فکری شاعری جس میں عورت کو چراغ خانہ کی ذمہ داریوں سے اکتاہٹ کی فکر نمایاں تھی ایسے میں اقبال نے اپنی شاعری میں عورت کے مقام کی تعین کیا۔ عورت کے اس مقام پر روشنی ڈالی جو نئی نسل کی تخلیق اور تعلیم و تربیت کی قدرت نےاس کے سپرد کی ہے تا کہ وہ ایک مثالی فرد تشکیل دے سکے۔
تعلیم نسواں سے مراد وہ اصول ہیں جو ہر عورت کو تعلیم حاصل کرنےکا حق دیں ۔ پچھترسال سے ہمارے کلمے کی اساس یہی وہ اصول ہیں جنہیں نہ اپنائے جانے کی وجہ سے ہمارا تعلیمی نظام مسلسل تنزلی کا شکار رہا ہے۔ مرد اور عورت مل کر خاندان بناتے ہیں ۔ خاندان میں موجود افراد سے مل کر معاشرہ بنتا ہے اور معاشرے شہر اور ریاستیں بناتے ہیں۔
گزشتہ ڈیڑھ سو سال سے تعلیم کا مسئلہ ہماری اجتماعی زندگی کے ایک نازک مسئلے کی حیثیت سے بحث و نظر کا موضوع چلا آتا ہے ۔ اقبال نے بھی اپنے دور میں اس بنیادی مسئلے کو اپنے فکر و شعر کا موضوع بنایا۔ ۱۸۵۷ کے ناکام انقلاب کے بعد اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے قیام اور جدید تعلیم کے فروغ کا سلسلہ وسیع تر ہونے لگا۔ سامراجی حکومت کو دفتری مشینوں کے لیے دیسی کل پرزوں کی ضرورت تھی اور یہاں معاشی بد حالی کے سبب تعلیم عام طور پر حصول تعلیم کا ذریعہ نہ رہی بلکہ ذریعہ معاش بن گئی ۔ جس کی وجہ سے سرسید تحریک کے زیر اثر نہ صرف مردوں میں تعلیم عام ہوئی بلکہ عورتیں بھی اس کی طرف متوجہ ہوئیں۔ چنانچہ سرسید اور ان کے رفقا نے ہندوستانی عورتوں کی جہالت دور کرنے پر بہت زور دیا اور تعلیم نسواں کے لیے باقاعدہ تحریک چلائی گئی۔ اکبر الہ آبادی ان سب تحریکوںکو شک و شبے کی نظرسے دیکھتے تھے ان کا خٰیال تھا کہ عورت اپنی مشرقیت کھو دے گی اور چراغ خانہ کی بجائے شمع محفل بننے کو ترجیح دے گی۔ جس کا ادراک اقبال کو مغربی نظام کو قریب سے دیکھنے کے بعد ہوا۔ اقبال کے افکار میں بے مقصد اور مادیت پرستی پر معمور مغربی تعلیمی نظام عورت کی صلاحیتوں کو مفلوج کئے ہوئے ہے ۔اقبال اپنی ذات بیا ض ‘منتشر خیالات اقبال ’میں لکھتے ہیں کہ
‘‘ اگر ایک معاشرہ عورتوں کو بچوں کی پیدائش اور پرورش کی اجازت نہیں دے سکتا تو انھیں اس کے علاوہ کچھ اور دینا ہو گا جس سے وہ مصروف رہیں۔ یورپ میں حق رائے دہی برائے نسواں کی تحریک کے پیچھے ووٹوں کی بجائے خاوندوں کے لیے پکار ہے۔ میرے لیے تو یہ بے روزگاروں کے ہاوٗ ہو سے زیادہ کچھ نہیں ہے’’۔
علامہ اقبال مخلوط طرز تعلیم کے بھی مخالف تھے۔ ان کے خیال میں یہ طریقہ تعلیم مسلمانوں کے لیے کسی بھی طور درست نہیں ہے۔ ایم اسلم کا بیان ہے کہ گرمیوں کا موسم تھا، حضرت اقبال حسب دستور کوٹھی کے برآمدے کے سامنے پلنگ پر استراحت فرما رہے تھے۔ پلنگ کے ایک طرف وہ اور دوسری طرف چوھدری محمد حسین بیٹھے تھے ایک صاحب جو اخبار کے رپورٹر تےہانپتے کانپتے آئے اور آکر کہاکہ آج خلیفہ صاحب نے سینیٹ میں مخلوط تعلیم کا ریزولیشن پاس کروا لیا ہے، علامہ اقبال نے ’ جن کا چہری اس وقت غصے سے سرخ تھا اور پلنگ پر زور سے ہاتھ مار کر بولے: ‘‘ آج مسلمانوں کی ذلت پر مہر لگ گئی’’
خاندان معاشرے کا مستحکم ادارہ ہے جس میں عورت کا ایک منفرد اور اہم مقام ہے۔ دراصل اقبال کے نزدیک امت مسلمہ کے لیے قابل تقلید نمونہ نبی کریم ﷺ اور ان کے صاحبہ کرام رضی اللہ اجمعین کا اسوہ ہے، چنانچہ اسی نسبت سے وہ خواتین کو تلقین کرتے ہیں کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی پیری اختیار کریں۔ اور اپنی آغوش میں ایسے بچوں کی پرورش کریں جو بڑے ہو کر شبیر صفت ثابت ہوں۔ رموز بے خودی میں لکھتے ہیں
سیرت فرزند ہا ازامہات
جوہر صدق و صفا ازامہات
مادراں اسوہ کامل بتول
رشتہ آئین حق زنجیر پاست
ایک خاندان میں ماں کا مقام سب سے اہم ہے اور اقبال کی نظر میں عورت کی عظمت کا راز اس کے فرض امومیت میں پوشیدہ ہے۔ ماں کی گود پہلا درس گاہ ہے جہاں سے اخلاق و شرافت کا درس ملتا ہے۔ ماں کو سماجی اور معاشی زندگی میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اقبال کے نزدیک تعلیم و ہنر کے میدان میں عورت اگر خود کوئی کارنامہ سر انجام نہ بھی دے سکے تو یہ اسکی نا کامی یا نا پختگی نہیں ہے۔ ماں کا درجہ ایسا ہے کہ ہر میدان میں کامیاب ہونے والا مشہور نام ایک گود میں پروان چڑھتا ہے۔ ایسا کوئی انسان نہیں جو ماں کے درجے سے انکار کرے اور اپنی کامیابی پر سب سے پہلے ماں کا نام نہ لے۔
مغرب کی طرح عورت کو صرف اقتصادی آزادی کے حصول کے لیے تعلیم دینا اسلامی مقصود نہیں ہے۔ اقبال عورتوں کے لیے مخصوص نصاب تعلیم کی سفارش کرتے ہیں جو انہیں خاندانی اور عائلی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ معشیت کے وسائل میں میانہ روی اختیار کرنے کا درس دے۔ یورپ عورت کو جو بے معنی آزادی دے رہا ہے اس سے اقبال کو اختلاف ہے وہ ملت کے لیے اس تقلید کو سخت خطرناک سمجھتے ہیں۔ہمار امذہب دینی اور دنیاوی علوم حدود میں رہ کر حاصل کرنے کی پوری آزادی دیتا ہے۔لا علمی کے باعث ہماری آج کی عورت آزادی نسواں کے نام پر نعروں کے ساتھ سڑکوں پر تو نکل آتی ہے لیکن قرآن و حدیث کے ذریعے اپنے حقوق و فرائض کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتی۔
اسلام میں عورت کا مقام و مرتبہ فطرت کے عین مطابق ہے۔ اسلام نے عورتوں کی تعلیم کے جو مقاصد متعین کیے ہیں جناب اقبال بھی تعلیم نسواں سے ان ہی نتائج کی آرزو کرتے ہیں ۔ اقبال کے نزدیک ایسی عورت جو دینی تعلیم میں کامل ہو زندگی کا سوز اور شرف کا درمکنون ہے۔ اقبال عورت کو تمدن کی جڑ قرار دیتے ہیں اس لیے زیور تعلیم سے آراستہ کرنا چاہتے ہیں۔ تعلیم نسواں کے بارے میں اقبال کی مجموعی فکر اور عمومی تصورات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ وہ عورتوں کوایسی تعلیم دلانا چاہتے تھے جو انہیں اسلامییت کا پابند، اور فرائض زوجیت و امومت بحسن و خوبی ادا کرنے کا اہل بنائے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button