اہم خبریںپاکستانصحت

بیسٹ وے سیمنٹ فیکٹری تترال سے نکلنے والے خطرناک زہریلے دھویں نے پورے علاقہ کہون میں تباہی مچا دی

۔ کاشتکاری والی زمینیں بنجر، فصلیں تباہ، چرند پرند ناپید ہونے کے ساتھ ساتھ زیر زمین پانی بھی ختم ہونے لگا ۔علاقہ مکین دمہ، ٹی بی ،الرجی سمیت آنکھوں ،پھپھڑوں کے مہلک امراض میں مبتلا ہوگئے ۔ محکمہ ماحولیات کے افسران خانہ پُری میں مصروف ۔چیف جسٹس آف پاکستان،وزیر اعظم پاکستان، وزیر اعلیٰ پنجاب ،محکمہ ماحولیات کے اعلیٰ افسران نوٹس لیں ۔
چوآسیدن شاہ (ملک عظمت حیات سے) چوآسیدن شاہ کے نواحی قصبہ تترال کہون میں خوشحالی کے نام پر لگائی جانے والی بیسٹ وے سیمنٹ فیکٹری نے علاقہ کے ماحول میں تباہی مچا دی ۔ سیمنٹ فیکٹری کی چمنیوں سے نکلنے والا زہر بھرا آلودہ دھواں سرسبزوشاداب فصلوں کو برباد اور زرخیز زمینوں کو بنجر کرنے میں مصروف عمل ہے ۔ سر سبزو شاداب علاقہ کہون بنجر علاقہ کا منظر تو پیش کرنے ہی لگا مگر انسانوں میں بھی مختلف قسم کی جان لیوا دمہ،ٹی بی،الرجی اور آنکھوں کے مہلک امراض تیزی سے پھیلنا شروع ہو گئے ۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ رات کی خاموشی میں فیکٹری کی مشینری کی زوردار دھمک اور گڑگڑاہٹ نے رات کا سکون بھی چھین لیا اور لوگ ذہنی مریض بن کے رہ گئے ہیں جس پر پولوشن اور ماحولیاتی آلودگی کے خلاف سرگرم نام نہاد این جی اوز بھی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ فیکٹری سے نکلنے والا خطرناک دھویں سے اب بچے، بوڑھے، نوجوان بھی متاثر ہورہے ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ ہمارے گھروں کے بورز بھی خشک ہو چکے ہیں فیکٹری میں دن رات ہیوی بورز چلنے سے زیر زمین پانی کا لیول دن بدن اتنا کم ہورہا ہے کہ ہر سال نیا بور کرانا پڑتا ہے ۔ دوسری جانب ضلعی انتظامیہ بھی فیکٹری مالکان کو انکے رولز کے مطابق کام کرنے کا حکم دینے میں مکمل ناکام ہے ۔ علاقہ مکینوں نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیر اعظم عمران خان، وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، سیکرٹری ہیلتھ پنجاب، کمشنر راولپنڈی ، ڈپٹی کمشنر چکوال، اسسٹنٹ کمشنر سیمل مشتاق ، محکمہ ماحولیات سمیت تمام ذمہ دار این جی اوز سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان فیکٹری مالکان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے اور سرسبز و شاداب علاقہ اور رہائشیوں کو موت کے سوداگروں سے بچایا جائے-

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button