کالمز

اٹھو پیارے ابھی سے تھک گئے تم

اٹھو پیارے ابھی سے تھک گئے تم
خنساء عبد القدوس
مانا کہ positive رہنا ایک اچھی عادت ہے مگر میرے خیال میں ہر چیز ہر جذبے کی ایک حد ہوتی ہے ہو سکتا ہے یہ پیمانہ ہر فرد کی شخصیت کی طرح ہر ایک میں متغیر ہو ،مگر کوئ انسان کتنا مثبت سوچ سکتا ہے لاکھ کوشش کے باوجود بھی ایک مقام آ ہی جاتا ہے جس سے آگے اگر مثبت سوچ کا پلو پکڑے رکھا جائے تو وہ میرے خیال میں بلی کو دیکھ کر کبوتر کا آنکھیں بند کرنے کے مترادف ہوتا ہے ۔
میرے خیال میں انسان کو اپنے غم منانے کا پورا حق ہونا چاہیے اسے حق ہونا چاہیے کہ وہ اپنی ناکامی ،کمتری کو مناۓ ۔ کامیابی پر جشن کرنے والا ہر ناکامیابی کو مناۓ وہ اس صورتحال سے بازیاب ہونے کی خود کوشش کرۓ ۔کوئ آپ سے بہتر طریقے سے آپ کی ذہنی یا جذباتی صورتحال کو نہیں سمجھ سکتا خود کے لیے وقت نکالیں اور ان عوامل کی نشاندھی کریں جو اس صورتحال کا سبب بنے کوئ کب تک بیساکھی کے فرائض سر انجام دے سکتا ہے۔
خود کوخود motivateکرئیں یہmotivational speakersآپ کو صرف کامیاب لوگوں کی مثالیں ہی دئیں گے ۔کون جانتا ہے کہ Newton, Einsteinکے زمانے میں اور کتنےNewton or Einsteinتھے کیونکہ وہ منزل تک پہنچ نہیں پائے تاریخ میں صرف کامیاب لوگوں کی جگہ بنتی ہے تو ہمیں پڑھ کر سن کر ہوں لگتا ہے کہ ہمارے سوا ہر شخص کامیاب ہے ہر شخص فاتح ہے ۔ہر شخص(ہم بذاتِ خود بھی) outputپر فوکس کرتا ہے کوئی inputکو نہیں دیکھتا
زندگی ایک ideal caseنہیں جہاں کوئی کسی سے ٹکرا نہیں سکتا کہی کوئی مشکل نہیں آ سکتی۔یہاں تو اکثر حالات اور وسائل جیسے عناصر ذہانت سے ٹکرا جایا کرتے ہیں ,اور ہاں آپکا ہر میدان میں کامیاب ہونا ضروری بھی نہیں ہوتا سب کچھ آپ کو ہی تو نہیں کرنا نا ،یقین جانیں ہر میدان سر کرنے کی کوشش انسان کو سر تا پا ہلکان کر دیتی ہے .

اٹھو پیارے ابھی سے تھک گئے تم
ابھی تو آغاز سفر ہے اور تمھیں تو بہت دورجانا ہے
ساۓ بھی آئیں گے اس راہ میں اور دھوپ سے بھی ٹکراؤ گے
مگر اراردے مصمم رکھنا تم ،تمھیں بہت دور جاناہے
بہت سی آنکھیں منتظر ہیں تمھیں اس پار دیکھنے کو
بہت سے دعاگو مانگ رہیں کامیابی تمہارے ہیں
ہزاروں دعائیں قبولیت کا شرف پانے کو بےتاب ہیں

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button