کالمز

اساتذہ کا عدم احترام ، قومی بحران

تحریر: روبینہ فیصل

اساتذہ قوم کے مستقبل کے معمارہیں۔ایسے معمار جو اپنے علم،مشاہدے اور تجربات کی بنیاد پر نسل نو کی تعمیر کرتے ہیں۔اپنے وقت،جذبات اور احساسات معاشرے کی بحالی کے لیے مکمل وقف کرنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ یہ وہ درس گاہیں ہیں جن کی آغوش میں اخلاق،کرداراور انسان کی مکمل شخصیت سنورتی ہے۔ شاعر جناب جبار واصف نے شان اساتذہ میں کیا خوب نظم کہی ہے کہ؛
ہماری درسگاہوں میں جو یہ اُستاد ہوتے ہیں
حقیقت میں یہی تو قوم کی بنیاد ہوتے ہیں
سُنیں رُوداد ہم جب بھی کسی کی کامیابی کی
ہر اِک رُوداد میں یہ مرکزِ رُوداد ہوتے ہیں
یہی رکھتے ہیں شہرِ علم کی ہر راہ کو روشن
ہمیں منزل پہ پہنچا کر یہ کتنا شاد ہوتے ہیں
بَرَستے ہیں یہ ساوَن کی طرح پیاسی زمینوں پر
انہی کے فیض سے اُجڑے چمن آباد ہوتے ہیں
یہ پستی کو بلندی بخشتے ہیں اپنے کاندھوں کی
انہی کی کھوج سے سب ناموَر ایجاد ہوتے ہیں
جو کرتے ہیں ادَب اُستاد کا پاتے ہیں وہ رِفعَت
جو اِن کے بے ادَب ہوتے ہیں وہ برباد ہوتے ہیں
اگر رُوحانیّت سے باہمی رِشتہ جُڑے واصف
تو پھر شاگرد بھی اُستاد کی اولاد ہوتے ہیں
۵ اکتوبر اساتذہ کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ادب و احترام کے لائق یہ افراد اب اپنا مقام کھوتے جا رہے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں ملازمت اختیار کرتے ہوئے اب یہ بھاری فیسیں ادا کرنے والے والدین کے ملازمین کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ ”مار نہیں پیار“ کے سلوگن کے زیر سایہ آسائشوں میں پلنے والی نسل نو اب اساتذہ کو وہ مقام دینے سے قاصر ہے جو ہارون الرشید اور مامون الرشید سلظنت کے شاہ زادے ہوتے ہوئے بھی اپنے استاد کو دینے میں اپنی حیثیت کو یکسر فراموش کیے رکھتے تھے۔استاد کی ڈانٹ ڈپٹ اور اصلاح کے لیے دی گئی سزاؤں کو اب ”تشدد“ خیال کیا جاتا ہے۔ کبھی یہ کہاوت بزرگوں کی مشہور تھی کہ جس نے استاد کی مار نہیں کھائی اسے وقت کی مار کھانی پڑتی ہے۔ یہ شاید ان وقتوں کی بات تھی جب والدین اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت کے لیے اساتذہ کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہوتے تھے۔اساتذہ کی قدر و منزلت سے آگاہ والدین خود بھی اساتذہ کی تکریم پر کاربند تھے اور اپنی اولاد کو بھی اپنے اساتذہ کے ادب و اخترام کا پابند رکھتے تھے۔ اساتذہ کا ڈر اپنے والدین کے غصے اورمار سے زیادہ ہوا کرتا تھا اور اس صورت اچھے اساتذہ (جن کی ڈانٹ،غصہ اور مار اصلاح و فلاح پر مبنی ہوتا ہے،جو اپنے شاگردوں سے بغض اور دشمنی نہیں پالتے، تشددنہیں کرتے)کی دی گئی تربیت اور تعلیم اپنا اثر رکھتے تھے جس کے نتیجے میں ہر دور نے اعلی درجہ اور اپنے علم و فن میں ماہر لوگوں کو اپنی اپنی تاریخ کا ”ہیرو“ سنہرے حرفوں میں درج کر رکھا ہے۔ جہاں قصوروار والدین ہیں کہ خوداساتذہ کو وہ تکریم نہیں دیتے جو حق ہے تو پھر ایسوں کی اولاد کیسے راہ ہدایت پر ہوگی وہیں بھاری فیسیں لینے والے ادارے بھی برابر شریک ہیں جو تعلیمی نظام کو جدید بنیادوں پر لاتے ہوئے قدیم روایت ”استاد کا احترام“ سے دور بھاگتے،سر کھجاتے ہیں۔ جدید تعلیمی نظام ہمارے پاکستان میں ایک خلائی بلا ہے جس کے زیر اثر اساتذہ ترقی یافتہ علاقوں میں ترقی کر رہے ہیں لیکن ترقی پذیر اور پسماندہ علاقوں کے اساتذہ ابھی بچوں کو ان کی علاقائی اور مادری زبانوں سے باہر انگریزی زبان کی طرف لانے میں کھپ رہے ہیں اور ایسی صورت میں ”رٹانظام“ کافی تیزی سے اپنی جگہ بنا رہا ہے جس کے نتیجے میں ”نیم حکیم خطرہ جان“ افراد اپنے اپنے شعبوں کے لیے اپنی خدمات پیش کرتے ہوئے ملک و قوم کے لیے ناسور بنے رشوت، سفارش اوردوسروں کے استحصال جیسی برائیوں کو بڑھانے اور احسن خیال کرنے کی سب سے بڑی وجہ بن چکے ہیں۔
اگر معاشرے کو اعلی اخلاقی اقدار اور بہترین معاشرت پر استوار کرنا چاہتے ہیں تو حقیقی معنوں میں عوام وخاص اساتذہ کی قدر و منزلت کو پہچانیں تاکہ اندھیروں میں بھٹکتی قوم روشنی کے جزیرے پر اپنا گھر بنانے میں کامیاب ہو۔ نسلیں سنوار کر قوم و مستقبل کے سنورنے کی امید کو بحال کیا جا سکتا ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ اپنے جاہ و مرتبے کی پرواہ کیے بغیر استاد کو عزت دیں۔ تعلیمی اداروں میں بھی انتظامیہ اور اعلی سطح کے تمام کارندے قوم کے ان معماروں کو عزت و تکریم دیں اور اس قدر کا خیال،اس کی افزائش ایسے کریں جیسے آجکل انگریزی زبان کی، کی جاتی ہے تاکہ ان کی پیروی میں ملک و قوم حقیقی معنوں میں تعلیم یافتہ، تربیت یافتہ اور ترقی یافتہ ہو سکے۔ یقینا اس حوالے سے حکومتی سطح پر بھی ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے اور بطور مجموعی ان کے حقوق کی بحالی میں والدین اور طالب علموں کا کردار بھی لازم ہے۔
دیکھا نہ کوہ کن کوئی فرہاد کے بغیر
آتا نہیں ہے فن کوئی استادکے بغیر

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button