کالمز

"آفت زدہ قوم”

تحریر: اعجازعلی ساغر اسلام آباد

اس وقت ویسے تو پوری دنیا آفتوں اور مصیبتوں میں گھری ہے لیکن ہم ذکر کررہے ہیں پاکستان کا جو آفاتستان بنا ھوا ہے جس میں ایک مصیبت ختم ھوتی ہے تو دوسری شروع ھوجاتی ہے جس کی وجہ سے قرضوں پر چلنے والا ملک مزید قرضوں میں جکڑتا جارہا ہے جب کورونا شروع ھوا تو اس وقت عمران خان کی حکومت تھی کورونا نے پوری دنیا کی معیشت کو ہلاکر رکھ دیا قرض دینے والے ممالک قرض لینے پر مجبور ھوگئے امریکا جیسے ملک میں وفاق میں تنخواہیں دینے کے پیسے نہیں تھے لوگ بھوک کی وجہ سے سڑکوں اور امدادی کیمپوں میں تھے معاشی لحاظ سے طاقتور ترین ممالک بھی پریشان ھوگئے ایسے حالات میں معاشی طور پر کمزور ممالک کی کیا حالت ھوگی کورونا نے پاکستان میں تباہی مچا کر رکھ دی دس لاکھ افراد بیروزگار ھوئے اور ہزاروں اموات ھوئیں ابھی کورونا کے اثرات کم ہی ھوئے تھے کہ ملک میں موسلا دھار بارشوں نے سیلابی کیفیت اختیار کرلی اور پورے ملک کو تہس نہس کرکے رکھ دیا بلوچستان,سندھ,کے پی کے,پنجاب,گلگت و آزاد کشمیر ہر جگہ سیلاب نے تباہی مچا دی لوگوں کے گھر,مال ہر چیز پانی کی نظر ھوگئے نظام زندگی درہم برہم ھوگیا اس خونی سیلاب نے کم و بیش دو ہزار سے تین ہزار جانیں نگل لیں جبکہ پاکستان کو اربوں روپے کا نقصان ھوا پچھلے دنوں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس پاکستان تشریف لائے اور انہوں نے سیلاب سے متاثرہ صوبوں کا وزٹ کیا اور عالمی برادری کو آفت زدہ پاکستان کی امداد کرنے کی اپیل کی کیونکہ لاکھوں پاکستانی اپنے گھروں سے محروم ھوگئے ہیں جو بے سرو سامانی کے عالم میں کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں اور امداد کے منتظر ہیں اس مصیبت ماروں کی مصیبتیں ختم نہیں ھوئیں بلکہ اور بڑھ گئی ہیں پانی کے ٹھہرنے کی وجہ سے مچھر کی افزائش شروع ھوگئی ہے اس میں عام مچھر بھی ہے اور ڈینگی بھی ڈینگی مچھر نے ملک میں خطرے کی گھنٹی بجادی ہے اور مصیبت میں گھرے لوگوں کو اور مصیبت میں ڈال دیا ہے سیلاب کی وجہ سے ہسپتالوں پر پہلے ہی بوجھ تھا اس ڈینگی نے ہسپتالوں کا نظام درہم برہم کردیا ہے جسکی وجہ سے کورونا وارڈز کو ڈینگی وارڈز میں تبدیل کردیا گیا ہے ڈینگی سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ھوتا جارہا ہے جس کی تعداد دس ہزار سے بڑھ چکی ہے اس خطرناک مچھر اب تک ہاف درجن لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار چکا ہے وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہبازشریف نے اس حوالے سے ہنگامی اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے اور وزیر صحت عبدالقادر پٹیل اس حوالے سے خاصے متحرک نظر آرہے ہیں ملک میں جاری عدم استحکام نے عام آدمی کی زندگی کافی اجیرن بنادی ہے سیاستدان سیٹ سیٹ کھیل رہے ہیں اپوزیشن جس کا مقصد حکومت کو عوامی خدمت کی طرف راغب کرنا ہے اور حکومتی نا اہلیوں کی نشاندہی کرنا ہے وہ اس وقت اقتدار کیلئے پر تول رہی ہے تحریک انصاف اور عمران خان آفت زدہ پاکستانیوں کے زخموں پر مرہم رکھیں اور کچھ وقت کیلئے حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کرتے ھوئے حکومت کو سیلاب اور ڈینگی کے متاثرین کی طرف متوجہ کریں حالات دن بدن خراب سے خراب تر ھوتے جارہے ہیں چاروں صوبے بشمول وفاق و گلگت بلستسان و آزاد کشمیر وقتی طور پر تو الرٹ ہیں اور ڈینگی سے متعلق آگاہی مہم چلارہے ہیں کہ عوام احتیاط کریں فل آستینوں والے کپڑے پہنیں مچھر کی افزائش صاف پانی میں ھوتی ہے گھروں میں کھلا پانی ڈھانپ کر رکھیں ٹائرز یا گملوں میں پانی کھڑا نہ ھونے دیں رات کو لوشن یا مچھر دانی کا استعمال کریں پارکوں اور کھلی جگہوں پر احتیاط کریں یہاں ڈینگی اپنا کام دکھا سکتا ہے۔
اس حوالے سے سندھ اور پنجاب گورنمنٹ بھرپور آگاہی مہم چلا رہی ہے جبکہ وفاق بھی اس حوالے سے کیمپئین چلانے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ ڈینگی سے عوام کی حفاظت کی جاسکے اس وقت ملک میں عدم استحکام اور غیر یقینی کی کیفیت کی وجہ سے عوامی مسائل میں دن بدن اضافہ ھوتا جارہا ہے وفاقی وزراء اور کابینہ میں موجود افراد تاحال کام نہ کرنے کی پالیسی اپنائے ھوئے ہیں یہی کام عمران خان کی کابینہ میں موجود وزراء کا تھا کہ اگر کوئی کام کی غرض سے وزراء یا مشیران سے ملنے چلا جاتا تو آگے سے ایسا برا سلوک کیا جاتا تھا کہ سائل اپنی پریشانی بھول کر نئی پریشانی میں مبتلا ھوجاتا تھا یہی حال شہبازشریف کی کابینہ کا ہے کوئی کسی کا کام کرنے کو تیار نہیں راشن اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے پیسے دینے سے پہلے خواتین کو کہا جاتا ہے کہ ہم سے فون پر باتیں کرو اور تعلقات بناؤ شرم کا مقام ہے۔
ملک میں مہنگائی ڈبل ٹرپل ھوچکی ہے کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہبازشریف جو گڈ گورننس کیلئے مشہور ہیں عوام ان کی راہ تک رہی ہے مافیا 100 والی چیز 500 میں بیچ رہا ہے ایسے مافیا کو لگام ڈالنے کی ضرورت ہے بجلی کے بلوں میں اضافے نے عام آدمی کو تقریباً مار دیا ہے مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں محمد نوازشریف اور مریم نواز بھی اس مہنگائی سے پریشان نظر آتے ہیں اور موجودہ حکومت سے کئی بار ناراضگی کا اظہار بھی کرچکے ہیں موجودہ حکومت کو عوام کو فی الفور ریلیف دینا ھوگا یہ قوم پچھلے تین چار سال سے مسلسل آفتوں اور مصیبتوں کا شکار ہے خدارا اس قوم کا سوچ لیں انہیں ان آفات سے نجات دلائیں ملک میں مہنگائی نے پنجے گاڑ رکھے ہیں مہنگائی کا خاتمہ کریں تاکہ عوام سکھ کا سانس لے۔ اس موقع پر عالمی برادری بھی فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ھوئے آگے آئے اور پاکستان کی مدد کرے کیونکہ اکیلا پاکستان ان آفات کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ عالمی برادری پاکستان کے تمام قرض معاف کرے اور اسے بلاسود قرض فراہم کرے تاکہ یہ ملک اپنے پاؤں پر کھڑا ھوسکے۔
اس کے علاوہ تمام پاکستانی مصیبت کی اس گھڑی میں آگے آئیں اور مصیبت میں گھرے اپنے تمام بہن بھائیوں کی مدد کریں۔
بطور قوم ہم اپنی افواج کے مشکور ہیں جو ہر طرح کی مصیبت اور مشکلات میں ھمیشہ قوم کی خدمت میں پیش پیش رہی ہے ہم امریکہ اور خصوصاً شیلا جیکسن اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سمیت ان تمام ممالک کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس مشکل وقت میں ھمارا ساتھ دیا ہے۔
اپنے حکمرانوں سے اپیل کرتا ھوں کہ عوام پر اپنے دروازے کھول دیں ان کے مسائل حل کریں۔
اپوزیشن فی الحال یہ کرسی کرسی کا کھیل بند کرے اور عوام کو ریلیف دلانے اور عوامی مسائل حل کرانے میں اپنا کردار ادا کرے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button