اہم خبریںپاکستان

آر ڈی اے نے آباد کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے سائٹ آفس ، 4 بل بورڈز اور گرین بیلٹ میں تجاوزات کو مسمار کردیا

آر ڈی اے نے آباد کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے دفتر ، 5 دکانیں اور 4 غیر قانونی تعمیر شدہ گھروں کو سیل کر دیا

راولپنڈی (نامہ نگار خصوصی ) میٹروپولیٹن پلاننگ اینڈ ٹریفک انجینئرنگ ڈائریکٹوریٹ آر ڈی اے نے آباد کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی (گلشن آباد) موضع کلیال مورگاہ راولپنڈی میں منظور شدہ لے آؤٹ پلان کی خلاف ورزی پر ایک سائٹ آفس، چار بل بورڈز، گرین بیلٹ میں تجاوزات کو مسمار کردیا اور مین آفس، پانچ دکانیں اور چار غیر قانونی طور پر تعمیر شدہ گھروں کو سر بمہر کر دیا۔ آر ڈی اے ترجمان نے بتایا کہ شہر میں غیر قانونی ڈویلپمنٹ اور تعمیرات کو کنٹرول کرنے کے لیے ڈائریکٹر جنرل آر ڈی اے کی ہدایت پر آر ڈی اے کا غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کے خلاف آپریشن بھرپور زوروشور سے جاری ہے، انہوں نے کہا کہ ایم پی اینڈ ٹی ای ڈائریکٹوریٹ آر ڈی اے غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کے خلاف سخت کارروائی کر رہا ہے۔ ڈائریکٹر ایم پی اینڈ ٹی ای آر ڈی اے نے بتایا کہ آباد کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک نے ڈویلپمنٹ اور تعمیرات نقشہ جات اور نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) کے بغیر اور پنجاب ڈویلپمنٹ آف سٹیز ایکٹ 1976 اور پنجاب پرائیویٹ ہاؤسنگ سکیموں اور لینڈ سب ڈویژن رولز 2010 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تعمیرات کیں۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ ہاؤسنگ سکیم کے مالک کو نوٹسس جاری کر دیے گئے ہیں۔ ایم پی اینڈ ٹی ای ڈائریکٹوریٹ آر ڈی اے کے عملے بشمول سپرنٹنڈنٹ سکیم ، سکیم انسپکٹر اور دیگر نے متعلقہ تھانہ صدر بیرونی راولپنڈی کی پولیس کی مدد سے مذکورہ ہاؤسنگ سکیم کے خلاف آپریشن کیا۔ ان پراپرٹیز کے مالک قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سائٹ آفس چلا رہے تھے۔ آر ڈی اے کے ترجمان نے کہا کہ چیئرمین آر ڈی اے طارق محمود مرتضیٰ نے ایم پی اینڈ ٹی ای ڈائریکٹوریٹ کو ہدایت کی ہے کہ وہ بغیر کسی خوف و خطر کے تجاوزات

، غیر قانونی و غیر مجاز تعمیرات اور تجارتی سرگرمیوں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔ انہوں نے کہا کہ عام لوگوں کو اخلاقی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور ہر قسم کی تجاوزات کو جتنا ہو سکے ہٹانا چاہیے تاکہ وہ مزید نقصانات سے بچ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس پراپرٹی کے مالک نے اتھارٹی سے لے آؤٹ پلان (ایل او پی) کی خلاف ورزی کرتے ہوے غیر قانونی طور پر مختلف علاقوں میں ڈویلپمنٹ کام کئے ہیں۔ عام لوگوں کو مشورہ دیا جات ہے کہ وہ اپنے مفاد میں غیر قانونی و غیر مجاز عمارتوں میں کوئی سرمایہ کاری نہ کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آر ڈی اے شہریوں کو مشورہ دیتا ہے کہ وہ ایسے منصوبوں میں سرمایہ کاری سے پہلے آر ڈی اے سے مشورہ کریں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button