کہانیاں / ناول

آخر کیوں


جیا راجپوت
سسکتی بلکتی رات، اندھیرا اور سسکیوں کی آواز گزری قیامت کی داستاں سنا رہی تھی۔ مشعل ساری رات روتی رہی۔ ماں کے قدموں کی آواز نے بھی ڈرا دیا اور وہ رونے لگی۔ ام ایمن نے اپنی بیٹی مشعل کے قریب جا کر اس کا آنسوؤں سے بھرا چہرہ چوم لیا. مشعل کی نگاہوں میں کئی سوال تھے. ام ایمن نے سرگوشی کی "میری گڑیا بس چپ کرو۔” مشعل اپنی امی سے لپٹ کر پھر سے رونے لگی اور کہا "امی بھلا کیا قصور تھا عائشہ کا؟” ام ایمن نے ٹھنڈی آہ بھری. بھلا وہ کیا قصور بتاتیں وہ تو خود بےیقینی کی کیفیت میں تھیں. انہوں نے مشعل کے سر میں ہاتھ پھیرا اور بولیں. "اچھا اب تم کھانا کھا لو۔”
مشعل نے ماں کا دل رکھنے کو حامی بھر لی لیکن نوالہ منہ کے قریب لے جاتے ہی کہ اس کے سامنے عائشہ کا چہرہ آ گیا اور آنسو پھر سے ضبط کا بندھن توڑ کر بہہ نکلے. کھانا چھوڑ کر اس نے اپنی ڈائری کھولی اور لکھنا شروع کر دیا.
سر تا پا برقع میں ملبوس جاپانی گڑیا عائشہ پانچ وقت کی نمازی اور قرآن و سنت کی سختی سے پیروی کرنے والی تھی. اکثر نماز کے لیے لیکچر سے اٹھ کر چلی جایا کرتی تھی۔ ایک مرتبہ مشعل بھی اس کے ساتھ چل دی۔ نماز کے بعد عائشہ کو سجدے میں دیکھ کر مشعل کافی حیران ہوئی۔ مشعل کے دل میں وسوسے آنے لگے۔ ذرا اس کی سرگوشیوں کو سنا تو معلوم ہوا کہ وہ اپنے بھائی کے لیے کچھ مانگ رہی تھی۔ مشعل خاموشی سے سن رہی تھی کہ اچانک عائشہ اٹھی اور کلاس کی جانب چلی گئی۔ مشعل نے کلاس روم میں جا کر اسے کریدا تو معلوم ہوا کہ عائشہ کا بھائی احمد جو دیکھنے میں نہایت خوبصورت نوجوان تھا اس کا مسئلہ تھا. سانولا رنگ لمبا قد، نشیلی آنکھیں اسے جاذب نظر بناتیں. اکلوتا ہونے کی وجہ سے وہ بہت لاڈلا تھا۔ ماں باپ اس کے سب ناز نخرے اٹھاتے تھے۔ مگر اسی لاڈ پیار نے اسے بگاڑ دیا تھا۔ شراب نوشی، سگریٹ نوشی اور بہن پر شک جیسی لعنت کا شکار تھا۔ عائشہ اس کے سامنے سہم سی جاتی تھی۔
مشعل ایک دن عائشہ کے گھر گئی۔ وہ بھائی کو گیٹ میں کھڑی بتا رہی تھی کہ اسے ایک بجے لینے آ جائے اور عائشہ گیٹ کے پیچھے کھڑی تھی کہ اچانک گلی سے احمد بھاگتا ہوا آیا اور عائشہ کو چند لمحے گھورنے کے بعد اس کا ہاتھ پکڑ کر اندر لے گیا۔ مشعل کے بھائی نے حالات دیکھے تو اپنی بہن کو واپس لے گیا۔۔ مگر اگلے دن عائشہ کالج نہیں آئی۔ مشعل روزانہ عائشہ کا انتظار کرتی مگر روز مشعل کی آنکھوں کو مایوسی ہی ملتی۔
تقریباً ایک ہفتے کے بعد مشعل کے لیے خوشی کا سورج طلوع ہوا۔ عائشہ برقع میں ملبوس ہاتھ پاؤں ڈھانپے اس کی جانب آ رہی تھی۔ مشعل نے عائشہ کو گلے لگا لیا اور پوچھا "کدھر تھی تم اتنے دنوں سے؟” عائشہ نے گردن جھکا کر جواب دیا "کچھ نہیں بس گھر میں کچھ کام تھا۔” مگر آنکھوں میں نمی پچھلے تمام ہفتے کی داستان سنا رہی تھی۔ عائشہ کی آنکھوں میں لکھی ہر بات مشعل اب پڑھنے لگی تھی۔
خیر وقت گزرتا گیا۔ اب عائشہ مشعل کے بہت قریب آ چکی تھی۔ ہر بات اس سے کہتیم کبھی رو دیتی کبھی رلا دیتی۔ اسی دوران والدین نے احمد کی شادی کر دی کہ شاید وہ بری عادتیں چھوڑ دے اور عائشہ کو بھی زبردستی منگنی کی انگوٹھی پہنا دی۔ مگر احمد کی طرح اسکی بیوی کی بھی زبردستی شادی کی گئی تھی۔ عائشہ کی بھابھی آئمہ بھی اپنے ساتھ ایک الگ ہی داستان لائی تھی۔ احمد کے گھر کے سامنے والے گھر میں رہنے والے ایان نامی لڑکے کو وہ بے حد چاہتی تھی۔ روز گھنٹوں اس کے لئے کھڑکی میں کھڑی رہتی۔ دنیا سے بے خبر دونوں عشق میں ایسا ڈوبتے کہ آئمہ کو کبھی احمد کی خبر ہی نہ رہتی۔ وہ بھول چکی تھی کہ وہ اب آئمہ علی سے آئمہ احمد بن چکی تھی۔
ایک دن عائشہ مشعل کے ساتھ بیٹھی تھی۔ اس نے مشعل سے پوچھا کہ ” تم اتنی بولڈ کیسے ہو؟” مشعل اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولتی ہے کہ ” عائشہ میری خود اعتمادی مجھے بولڈ بناتی ہے تم بھی خود اعتماد بنو۔ کبھی کسی کو خود سے کمتر نہ جانو۔ جو بات ہے کہہ دو۔ اپنی فیملی کو بتاؤ ہر بات. اپنے بھائی سے شیئر کرو۔ انہیں اپنا دوست بناؤ۔” عائشہ اس کی بات کاٹتے ہوئے بولی- ” نہیں میں ایسا نہیں کر سکتی۔ بچپن سے لے کر آج تک بھائی کی کی گئی ہر شرارت میرے حصے میں لکھی گئی ہے. اب بھی مجھے ہی سب قصوروار سمجھیں گے۔ "بولتے ہوئے اس کی آنکھیں بھر آئیں۔ مشعل نے اسے گلے لگاتے ہوئے حوصلہ دیا۔
عصر کی نماز سے فارغ ہو کر دونوں لان میں بیٹھی تھیں۔ہلکی ہلکی ہوا نے موسم کو بہت خوشگوار کر دیا تھا، دونوں باتوں کے ساتھ ساتھ موسم سے بھی لطف اندوز ہو رہی تھیں۔آئمہ چپکے سے ایک نظر ایان پر بھی ڈال لیتی جو سامنے کھڑکی میں کھڑا تھا۔ احمد باہر گلی میں اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ کھڑا ہوا تھا، اچانک اس کی نظر سامنے کھڑے ایان پر پڑی جو ان کے گھر کی طرف مسکرا کر دیکھ رہا تھا۔اسی دوران آئمہ ساس کے بلانے پر اندر چلی گئی، احمد گھر میں داخل ہوا تو عائشہ کو لان میں تنہا دیکھ کر طیش میں آگیا۔
اس نے کوئی بات نہیں کی ، سیدھا کمرے میں گیا ، الماری سے پستول نکال لیا۔۔ اتنی دیر میں مغرب کی اذان ہوئی تو عائشہ اٹھ کر کمرے میں آگئی۔ احمد اپنے کمرے میں گیا، پستول نکالا اور عائشہ کے کمرے میں چلا گیا۔ نماز کے لئے جائے نماز پر کھڑی بے خبر لڑکی کو دیکھا اور اسی پل اس نے اکٹھی تین گولیاں اس کے سر میں اتار دیں۔
گولیاں چلنے کی آواز سن کر عائشہ کے گھر والے اس کے کمرے کی جانب بھاگے جہاں احمد ہاتھ میں پستول لیے کھڑا تھا۔ وہ معصوم سی گڑیا حجاب کیے جائے نماز پر خون میں لت پت زندگی کی بازی ہار چکی تھی۔ ماں کے منہ سے چیخ نکلی۔ باپ نے خون میں لت پت بیٹی کو اٹھانے کی کوشش کی لیکن بہت دیر ہو چکی تھی۔ عائشہ اس شک کی دنیا سے آزاد ہو کر ابدی نیند سو چکی تھی۔
مشعل اس روز بھی اس کا انتظار کرتی رہی۔ تقریباً نو بجے کے قریب کالج میں اعلان برائے ایصال ثواب کیا گیا ” سیدہ عائشہ بنت زید انتقال فرما گئی ہیں” ان چند الفاظ کے بعد مشعل کچھ اور نہ سن سکی اور بے ہوش ہو گئی.
چند دنوں میں بات جنگل میں لگی آگ کی طرح پھیل گئی۔ احمد کو گرفتار کر لیا گیا۔ مشعل نے بھی احمد کے خلاف گواہی دی مگر باپ نے عدالت میں اثر و رسوخ لڑا کر بیٹے کو بری کروا لیا اور یوں ایک اور غیرت کا چیمپئن گھر واپس آ گیا. حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مشعل کے ڈائری پر درج ہونے والے آخری الفاظ کچھ یوں تھے:
” آخر کیوں غیرت کے نام کی چادر ہم بیٹیوں کے سر پر دی جاتی ہے مگر بیٹوں کے سر کی پگڑی نہیں بنائی جاتی؟ یہ رسم بدلی نہیں جاتی ختم نہیں ہوتی آخر کیوں؟

Related Articles

One Comment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button