کالمز

آج کا انسان

"آج کا انسان”
اقراء عبدالرؤف

آج کا دور تاریخِ انسان کا سب سے حیرت ناک دور ہے۔اگر ہم آج سے صدیوں پرانے انسان کا تذکرہ کریں تو ہم حیرت کے سمندر میں ڈوبتے چلے جائیں گے۔انسان ہمیشہ اپنی بقا کا سوچتا ہے۔اس دور کے انسان کو معلوم ہوا کہ زندہ رہنے کے لئے بھوک نامی بلا سے لڑنا ضروری ہے تو وہ بھوک مٹانے کی تگ و دو میں لگ گیا۔زمین کا سینہ چیر کر لہلہاتے کھیت اگانے لگا۔دیکھتے ہی دیکھتے ‘مٹی’ نے ‘مٹی’ کو پائیدار بنا دیا۔انسان خوشی سے زندگی بسر کرنے لگا تو موت نے اپنا تعارف کروایا اور انسان کو فکر مندی نے آ گھیرا۔کبھی کوئی درندہ انسان کو چیر رہا ہے تو کبھی کوئی قدرتی آفت اسے اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔کبھی کسی زہریلے جانور کے کاٹنے سے تو کبھی کسی بیماری کی زد میں انسان تڑپ کر مرنے لگا۔پھر انسان نے اس صورتحال سے لڑنے کی ٹھانی۔اس نے مضبوط پتھر اکٹھے کئے،لکڑیاں اکٹھی کیں اور درندوں سے لڑنے کے لئے اوزار بنانے لگا۔کوئی جنگلوں میں نکلا اور بیماریوں کی جڑیں اکھاڑنے کے لئے جڑی بوٹیاں اکھٹی کرنے لگا اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ ہر دور کے انسان نے اپنی بقا کے لئے جدو جہد کی منازل طے کیں ہیں۔یہاں تک کے آج انسان نے اپنی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے چھوٹے سے چھوٹے کام کے لئے مشینری تیار کر لی ہے۔انسانوں کی طرح کام کرنے والے روبوٹس تیار کر لئے ہیں۔انسان ہر طرح کی بیماری کا علاج دریافت کرتا چلا جا رہا ہے۔آج انسان نے ایسی وسیع وعریض اور عالیشان عمارتیں تعمیر کی ہیں جن کا تصور بھی اس دور کے انسان کے لئے ناممکن تھا۔برقی آلات اور جدید ٹرانسپورٹ نے ہماری زندگی کو آسان بنا دیا ہے۔آج کے انسان کو پانی کی طلب کنویں پر نہیں لے جاتی۔اس دور کا انسان چند الفاظ اوراق میں لپیٹ ارسال کرتا اور ہفتوں جواب کا منتظر رہتا۔بلاشبہ موبائل فون انسان کی ذہانت اور محنت کا

منہ بولتا ثبوت ہے۔
مگر اس ترقی یافتہ دور میں جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس ہونے کے باوجود عصر حاضر کے انسان سے زیادہ پریشان ،غیر محفوظ،دباؤ کا شکار،اینگزائٹی کی آخری حدوں کو چھوتی کوئی اور تہذیب اس سے پہلے زمین پر نہیں گزری۔یہ تضاد ایک خوفناک صورت اختیار کر گیا ہے۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس قدر تیز رفتار ترقی کے بعد دنیا امن کا گہوارہ بن جاتی۔جنگ ایک قصئہ پارینہ قرار پاتی۔ہر طرف امن و آتشی کا دور دورہ ہوتا۔مگر افسوس آج ہر طرف مادیت پرستی دکھائی دیتی ہے۔غربت افلاس،رنج و الم،جنگ و جدل،ایٹمی دھماکوں کے لرزتے خدشات،ظلم و نا انصافی،پستی کی خوفناک گھاٹیاں،رزق حرام کی کثرت،زنا کا عام ہو جانا،میڈیا کا اذہان پر قابو پا لینا۔۔۔۔۔۔
بلامبالغہ ہر انسان ایک نفسیاتی مریض بن کر رہ گیا ہے جس کا صرف ایک ہی مقصد ہے۔مزید پیسہ،مزید ترقی،کاروبار میں اضافہ،بڑے مکان،بڑی گاڑیاں ،شہرت۔۔۔۔کیا یہی ہمارا مقصد زندگی ہے؟ہمیں خود سے سوال کرنا چاہیے ہماری پریشانیوں کی کیا وجوہات ہیں ؟ہمارا ڈپریشن کیا ہے؟ہمارے مسائل آخر حل کیوں نہیں ہوتے؟؟یہ بھوک،افلاس،تنگ دستی ہمارا ہی مقدر کیوں؟یہ خود ساختہ رسوم جو ہمارے ذہن کو جکڑے ہوئے ہیں کس نے تخلیق کی ہیں؟اپنوں سے اس قدر ذہنی ہم آہنگی کا فقدان کیوں ہے؟ہمارے ذہنوں میں فرقہ بندی کے جالے کس نے بنے ہیں؟یہ جوان نسلیں مغموم کیوں ہیں؟؟ان سوالوں کے جواب ڈھونڈنے کے بعد ہی ہم ان مسائل کے حل پر توجہ دے سکتے ہیں۔
صدیوں پرانا انسان سہولیات سے محروم تھا اور آج کے انسان نے اپنا سکون کھو دیا ہے۔خدا تعالیٰ سے دعا ہے یہ تضاد حد سے نہ بڑھے۔خدا بے حال دلوں کو سکون بخشے آمی

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button