اہم خبریں

آبی بحران کا خطرناک چیلنج

پاکستان آبی بحران کے سنگین خطرے سے دوچار ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ اس سال تربیلا اور منگلا میں پانی کی سطح میں رکارڈ کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ پانی کی تقسیم کے قومی ادارے ارسا کی طرف سے جاری کیے جانے والے اعداد وشمار کے مطابق ملک میں پانی کی قلت 40سے 50فیصد تک پہنچ چکی ہے جسے چاروں صوبوں پر تقسیم کیا جائے گا۔اس سال دریاؤں میں آنے والے پانی کی مقدار بھی کم ہوئی ہے، پہاڑی علاقوں میں گلیشئر ز کے نہ پگھلنے کی وجہ سے مئی کے آخر میں بھی دریاؤں میں پانی کی مقدار کم ہے۔ تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ منگلا اور تربیلا میں سلٹ کی وجہ سے پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش بھی کم ہو چکی ہے۔ اس کمی کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ تربیلا میں پانی کی گنجائش 9.6ملین ایکڑ فٹ پانی سے 6ملین ایکڑ فٹ تک رہ گئی ہے۔ کم و بیش یہی صورتحال منگلا ڈیم کی گنجائش کے ساتھ ہے، حقیقت یہی ہے کہ دیا میر بھاشا ڈیم کی تعمیر تک پاکستان کو پانی کی ذخیرہ بندی کے معاملے میں سخت مسائل کا سامنا رہے گا۔ پانی کمیابی کے اسباب میں نمایاں ترین ماحولیاتی تبدیلیاں ہیں، تشویش ناک حالات یہ ہیں کہ جن علاقوں میں نمی کا تناسب زیادہ ہے وہاں آب وہوا میں نمی بڑھ رہی ہے۔ یعنی ملک کے بالائی علاقوں میں درجہ حرارت کم ہو رہا ہے جس کی وجہ سے گلیشئر نہیں پگھل رہے، پانی نیچے نہیں آ رہا جس کی وجہ سے ر دریاؤں میں پانی کی مقدار 20فیصد تک کم ہو چکی ہے۔ اسی طرح ملک کے جن حصوں میں خشکی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے وہاں موسم کی خشکی میں اضافہ ہو رہا ہے۔یوں میدانی علاقوں میں نمی کا تناسب کم ہونے سے زرعی زمین توڑ پھوڑ کا شکار ہے اور زیر زمین پانی کی سطح مسلسل کم ہو رہی ہے۔حالت یہ ہے کہ زمین میں نمی کی کمی سے کاشت کاروں کو پانی کی معمول سے زیادہ ضرورت پیش آ رہی ہے جبکہ دریاؤں کی روانی میں کمی اور آبی ذخائر کی گنجائش کم پڑنے سے پانی کی مطلوبہ مقدار بھی دستیات نہیں ہے۔ اس صورتحال کا دوسرا اور انتہائی پریشان کن پہلو یہ ہے کہ آبی ذخائر کی قلت اور قومی مفاد میں اقدامات اٹھانے کی تاخیر کی وجہ سے پاکستان اوسطً ایک سال میں 21ارب ڈالرز کا پانی سمندر برد کر دیتا ہے۔ جب پانی ضرورت سے زیادہ آئے جائے یا بھارت کی جانب سے پانی چھوڑ دیا جائے تو سیلاب کی شکل میں ملکی معیشت، سماجی نظام اور انسانی آبادیوں و زندگی کو الگ سے ناقابل تلافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
سندھ اور اس کے معاون دریاؤں میں پانی کی آمد چونکہ مسلسل کمی کا شکار ہے لہٰذا ملک کی لاکھوں ایکڑ اراضی بتدریج خشک سالی کے گھیرے میں آتی جا رہی ہے۔ پانی کی قلت کے حوالے سے سامنے آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق فوری توجہ اور منظم منصوبہ بندی کے ساتھ موثر اقدامات نہ کیے گئے تو 10سال بعد لاہور پانی کی کمیابی کے بھیانک بحران کی نذر ہو جائے گا، یہ کیفیت لاہور تک محدود نہیں بلکہ پاکستان کے میدانی علاقوں میں تھوڑے فرق کے ساتھ حالات ایسے ہی ہیں۔ زیر زمین پانی کے ذخائر اور سطح کم سے کم ہوتی جا رہی ہے۔ ایک وقت میں عام طور پر 50سے 60فٹ کی گہرائی میں پینے کا پانی دستیاب ہوتا تھا جو اب عمومی طور پر 200فٹ کی گہرائی تک جا پہنچا ہے۔ بعض علاقوں میں یہ گہرائی 700فٹ تک جا پہنچی ہے جو بے حد پریشان کن ہے۔ ملکی آبادی میں تیز رفتار اضافے نے حالات کو اور بھی گھمبیر کر رکھا ہے کہ 50کی دہائی میں ملک کے ہر شہری کو سالانہ 5650کیوبک میٹر پانی دستیاب تھا جو آبی وسائل کو ذخیرہ کرنے میں عدم توجہ اور آبادی میں خطرناک اضافے کی وجہ سے آج 900کیوبک فٹ سالانہ رہ گیا ہے۔ اس امر پر ماتم ہی کیا جا سکتا تھا کہ 1976ء میں پاکستان میں 16.26ملین ایکڑ پانی ذخیرہ کر رہا تھا جو کم ہو کر 13.68ملین ایکڑرہ گیا ہے، یعنی پچھلے 45سال میں آبی ذخائر کی تعمیر پر توجہ ہی نہیں دی گئی۔ حالات یہاں تک آن پہنچے ہیں کہ ملک میں 30دن کی ضرورت کا پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش،اس وقت تک دستیاب پانی کا 40فیصد ذخیرہ کرنے کے عالمی معیار کی نسبت ہم محض 10فیصد ذخیرہ کر رہے ہیں اور باقی کا سمندر برد ہو جاتا ہے۔ ان حالات میں امید کا ایک پہلو بہرحال یہ ہے کہ دیامیربھاشا اور دیگر ڈیمز کی تعمیر پر کام شروع کیا جا چکا ہے۔ بلوچستان میں بھی آبی ذخائر کی تعمیر پر عمل کیا جا رہا ہے تاہم دیوار پر لکھی حقیقت یہی ہے کہ مذکورہ آبی ذخائر کے فعال ہونے تک حالات کیا رخ اختیارکرتے ہیں، ایسا سوچنا ہی پریشان کن بلکہ خوف زدہ کر ڈالنے والا ہے۔ یہ حالات ہیں کہ جن کی موجودگی میں پاکستانی وفد بھارت سے آبی تنازعات پر مذاکرات کے لیے نئی دہلی پہنچا ہے۔اس حوالے سے بات کی جائے تو پاکستانی حکام نے پچھلے 50سال میں سندھ تاس معاہدے پر دیانتدارانہ عمل درآمد کے معاملے پر ناقابل معافی غفلت اور ارادی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر بھارت اپنے علاقوں میں آبی ذخائر اور توانائی کی پیدا وار کے منصوبوں کی تکمیل کرتا رہا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہر سال چناب، جہلم اور سندھ میں پانی کی دستیابی میں کمی آ رہی ہے۔ پاکستان کے مسلسل اعتراض اور احتجاج کو ایک طرف رکھ کر بھارت آبی وسائل پر ڈاکہ زنی کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس صورتحال کا تقاضا یہی ہے کہ بھارت سے مذاکرات کو جاری رکھتے ہوئے اپنے موقف کو بھر پور انداز میں سامنے لانے کے ساتھ ملک کے اندر آبی وسائل پر منظم و جامع منصوبہ بندی کی جائے۔ آبی ذخائر کی تعمیر، آبی وسائل کے بہترین استعمال، نظام آبپاشی میں موجود نقائص کے خاتمے، زیر زمین پانی کے ذخائر کی حفاظت اور ماحولی تبدیلیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل کے نتیجہ خیز حل کو قومی نصب و العین کا حصہ بنایا جائے پاکستان کی حکومت، سیاسی و فوجی قیادت، قومی اداروں اور عوامی حلقوں کو یہ حقیقت سمجھنے میں ایک لمحہ کی تاخیر نہیں کرنی ہو گی کہ آبی وسائل بارے اختیار کی گئی غفلت و لاپرواہی کو جاری رکھنا قومی خود کشی کے مترادف ہے۔ آج اور ابھی سے پیش رفت کی سوچ پر عمل نہ کیا گیا تو کسی دشمن کی ضرورت نہیں بلکہ آنے والا وقت ہمیں سفاکانہ انداز میں کیفر کردار تک پہنچا ڈالے گا۔ ہاکی میں ناقص کارکردگی کا تسلسل قومی ہاکی ٹیم ناقص کارکردگی کا تسلسل برقرار رکھتے ہوئے انڈونیشیا میں کھیلے جانے والے ایشیا کپ ہی باہر نہیں ہوئی ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے میں بھی ناکام رہی۔ قومی ٹیم نے ایشیا کپ ٹورنامنٹ میں واحد کامیابی انڈونیشیا کے خلاف حاصل کی۔ بھارت کے ساتھ میچ برابر رہا جبکہ جاپان سے شکست کے بعد ٹورنامنٹ سے باہر ہو گی۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے ٹیم کی اس افسوس ناک کاکردگی کی وجوہات جاننے کے لیے اولمپئن کلیم اللہ کی سربراہی میں تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے جواپنی رپورٹ 20جون تک ہاکی فیڈریشن کی صدر کو پیش کرے گی۔ ہاکی پاکستان کا قومی کھیل ہے جو بدقسمتی سے بدترین عدم توجہی کا شکار ہے۔ ایک وقت میں دنیا کی بہترین ٹیم کا اعزاز رکھنے والی قومی ٹیم حکام کی لاپرواہی، غفلت اور ہاکی فیڈریشن کی پیشہ وارانہ سوچ سے عاری پالیسیوں کے باعث نکمی ترین ٹیموں میں شامل ہو چکی ہے۔ ایک عرصہ سے قومی ٹیم عالمی سطح پر کھیلے جانے والے ہر ٹورنامنٹ میں نہایت ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ چند دن پہلے انڈونیشیا میں کھیلے جانے ایشیا ء کپ میں بھی ٹیم نے توقعات کے عین مطابق انتہائی برے کھیل کا مظاہرہ کیا جس کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ اس مقابل زمینی حقائق کو دیکھا جائے تو قومی ٹیم کے برے کھیل کی وجوہات جاننے کے لیے کسی تحقیق کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ وجوہات سب کے سامنے ہیں کہ ہاکی فیڈریشن کھیل کے عالمی معیار، تقاضوں اور معاملات کو یکسر نظر انداز کر کے قومی کھیل کو ترقی دینے کی کوشش میں مصروف ہے جو ایک طرح سے قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ ملک کے اندر ہاکی کھیل کی تیاری اور پریکٹس کے لیے معیاری گراؤنڈ موجود ہیں اور نہ ہی کھلاڑیوں کو عالمی معیار کے مطابق تیار کرنے کے لیے غذا، تربیت اور معاوضوں پر توجہ دی جا رہی ہے۔ دنیا بھر میں دیگر کھیلوں کی طرح ہاکی کو بھی کمرشل کیا جا رہا ہے جبکہ پاکستان ابھی تک روایتی طریقوں سے باہر نہیں نکل سکا۔ بہت ضروری ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن تحقیقاتی کمیٹی بنانے جیسی کاغذی کارروائیوں سے باہر نکلے، اپنے خامیوں کا جائزہ لے اور ہاکی کی بہتری کے لیے عالمی معیارکی تقلید کرے، بصورت دیگر کچھ بھی کرتے رہیں نتائج ایسے ہی برآمد ہوں گے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button