اہم خبریںپاکستان

آئینہ انکو دکھایا تو برا مان گئے ،اٹک پولیس کی انتقامی کارروائی سینئر صحافی تنویر اعوان کی بے بنیاد مقدمے میں گرفتاری صحافتی تنظیموں نے آرپی او آفس کے باہر دھرنے کی کال دیدی

آئینہ انکو دیکھایا تو برا مان گئے ،اٹک پولیس کی انتقامی کارروائی سینئر صحافی تنویر اعوان کی بے بنیاد مقدمے میں گرفتاری صحافتی تنظیموں نے آرپی او آفس کے باہر دھرنے کی کال دیدی تھانہ کراچی کمپنی پولیس اور اٹک پولیس کا مشترکہ چھاپہ، صبح سویرے گھر سے گرفتار کرکے پہلے تھانہ کراچی کمپنی اور بعد ازاںتھانہ صدر اٹک منتقل کر دیا گیا، اٹک پولیس کے خلاف خبریں شائع کرنے پر توہین اہل بیت کے الزام میں گرفتاری، اٹک پولیس نے خود احتسابی کرنے کی بجائے صحافیوں کو انتقام کا نشانہ بنا نا شروع کر دیا ،ڈی پی او اٹک کی معنی خیز خاموشی سے کئی سوالات جنم لینے لگے،سینئر صحافی تنویر اعوان کی بے گناہ گرفتاری پر صحافتی تنظیموں میں شدیدبے چینی،فوری رہائی کا مطالبہ سابق ایس ایچ او عظمت حیات کے زیر استعمال چوری شدہ گاڑی کے معاملے کو بے نقاب کیا گیا،جسکے بعد بینکنگ کورٹ کے احکامات پر کارنمبریLWL-1290کو سابق ایس ایچ او عظمت حیات کے قبضے سے لیکر حقیقی مالک کے حوالے کیا گیا،اٹک پولیس کا حقیقی چہرہ عوام کے سامنے لانے کے جرم میں مقامی صحافیوں پر نام نہاد مقدمہ درج کیا گیا اورچند روز بعدسینئر صحافی تنویر اعوان پر بھی تھانہ صدر اٹک میں بے بنیاد ،من گھڑت اور لغو ایف آئی آر درج کرکے گرفتاری عمل میں لائی گئیاٹک پولیس نے نہ صرف اعوان قبیلے کے جذبات کو مجروح کیا ہے بلکہ ہماری ذات پر سوال بھی اٹھا دیا ہے جو کسی صورت قابل برداشت نہیں ، اعوان قوم کا شجرہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے ،ہماری ان سے نسبت ہمارے لئے باعث اعزاز، ہم انکی آل ہیں،سوشل میڈیا پوسٹ جسے بنیاد بنا کر اٹک پولیس نے جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقدمہ درج کیا ،اس پوسٹ میں کہیں توہین اہل بیت نہیں، ہر پلیٹ فارم پر چیلنج کرینگے اور سپریم کورٹ تک جائیں گے،ایڈووکیٹ شاہ محمد اعوان ارشد علی جعفری نے پولیس کو درخواست دی جس میں تنویر اعوان پر الزام عائد کیا کہ وہ کہتے ہیں علوی اور اعوان حضرت علی علیہ السلام کی اولاد ہیں، سینئر صحافی تنویر اعوان اٹک پولیس کی من مانیوں ، جھوٹے مقدمات ، ناقص تفتیش ، جعلی پولیس مقابلوں ،خاص طور پر چکدرہ کے رہائشی طالبعلم ساجد خان کو چھچھ انٹرچینج پر جعلی پولیس مقابلے میں قتل کرنے کے خلاف مسلسل لکھ رہے تھے،معروف سوشل میڈیا پیج چھچھ نیوز نیٹ ورک کے چیف ایگزیکٹو کے طور پر پولیس گردی کے خلاف جہاد کررہے تھے سینئر صحافی کے اہل خانہ نے اٹک پولیس کی کارروائی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک دن گزر جانے کے باوجود ہمارے وکلاء کو ایف آئی آر کی نقل فراہم نہیں کی گئی ،اٹک پولیس کی جانبداری عیاں ہے،اٹک پولیس جعلی پولیس مقابلے کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتی ،تنویر اعوان کو بھی ماورائے عدالت قتل کر دیا جائے انکی جان کو شدید خطرات لاحق ہیں ،آئی جی پنجاب ،وفاقی وزیر داخلہ انکی گرفتاری کا نوٹس لیکر انہیں نہ صرف تحفظ فراہم کریں بلکہ انصاف بھی فراہم کیا جائے اسلام آباد (سی این پی ) سینئر صحافی تنویر اعوان کی رہائش گاہ واقع جی نائن اسلام آباد پر تھانہ کراچی کمپنی پولیس اور اٹک پولیس کا مشترکہ چھاپہ، صبح سویرے انہیں گھر سے گرفتار کرکے پہلے تھانہ کراچی کمپنی اور بعد ازاںتھانہ صدر اٹک منتقل کر دیا گیا،سینئر صحافی تنویر اعوان کی بے گناہ گرفتاری پر صحافتی تنظیموں میں شدیدبے چینی،فوری رہائی کا مطالبہ بصورت دیگر ملک گیر احتجاج کا اعلان،آج آرپی او آفس راولپنڈی کا گھیرائواوردھرنے کا اعلان،آئی جی پنجاب،وفاقی وزیر داخلہ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ ۔تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی تنویر اعو ان کے خلاف تھانہ صدر اٹک نے ارشد علی جعفری کی درخواست پر بے بنیاد اور من گھڑت FIR درج کرکے انکی رہائش گاہ پر اسلام آباد پولیس کیساتھ صبح سویرے چھاپہ مار کرانہیں گرفتار کر لیا ہے ۔ اٹک پولیس نے معروف صحافی تنویر اعوان کو اپنے خلاف خبریں شائع کرنے پر توہین اہل بیت کے الزام میں گرفتار کیا۔تنویر اعوان پر الزام لگایا گیا ہے کہ ان کا موقف ہے کہ علوی اور اعوان حضرت علی علیہ السلام کی اولاد ہیں۔اٹک پولیس کے بے بنیاد مقدمے کی وجہ سے جہاں صحافتی حلقوں میں اضطراب پایا جا رہا ہے وہی اعوان قبیلے کی نمائندہ تنظیموں میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ۔تنظیم الاعوان انٹرنیشنل کے ذمہ دار ایڈووکیٹ شاہ محمد اعوان کا کہنا تھا کہ تنویراعوان پر بے بنیاد اور سمجھ سے بالاتر الزام عائد کرتے ہوئے مقدمہ درج کرکے اٹک پولیس نے نہ صرف اعوان قبیلے کے جذبات کو مجروح کیا ہے بلکہ ہماری ذات پر سوال بھی اٹھا دیا ہے جو کسی صورت قابل برداشت نہیں ،ایڈووکیٹ شاہ محمد اعوان کا کہنا تھا کہ اعوان قوم کا شجرہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے ،ہماری ان سے نسبت ہمارے لئے باعث اعزاز ہے اور ہم انکی آل ہیں۔سوشل میڈیا پوسٹ جسے بنیاد بنا کر اٹک پولیس نے جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقدمہ درج کیا ،اس پوسٹ میں کہیں توہین اہل بیت نہیں،اٹک پولیس نے ذاتی رنجش مٹانے کیلئے مذہبی کارڈ کھیلنے کی ناکام کوشش کی ہے جسے ہر پلیٹ فارم پر چیلنج کرینگے اور سپریم کورٹ تک جائیں گے، اہم بات یہ ہے کہ سینئر صحافی تنویر اعوان اٹک پولیس کی من مانیوں ، جھوٹے مقدمات ، ناقص تفتیش ، جعلی پولیس مقابلوں ،خاص طور پر چکدرہ کے رہائشی طالبعلم ساجد خان کو چھچھ انٹرچینج پر جعلی پولیس مقابلے میں قتل کرنے کے خلاف مسلسل لکھ رہے تھے ،اسکے علاوہ انہوں نے سابق ایس ایچ او عظمت حیات کے زیر استعمال چوری شدہ گاڑی کے معاملے کو بھی بے نقاب کیا ،جسکے بعد بینکنگ کورٹ کے احکامات پر کارنمبریLWL-1290کو سابق ایس ایچ او عظمت حیات کے قبضے سے لیکر حقیقی مالک کے حوالے کیا گیا،اٹک پولیس کا حقیقی چہرہ عوام کے سامنے لانے کے جرم میں مقامی صحافیوں پر بھی نام نہاد مقدمہ درج کیا گیا اورچند روز بعدسینئر صحافی تنویر اعوان پر بھی تھانہ صدر اٹک میں بے بنیاد ،من گھڑت اور لغو ایف آئی آر درج کرکے گرفتاری عمل میں لائی گئی۔واضح رہے کہ معروف سوشل میڈیا پیج چھچھ نیوز نیٹ ورک کے چیف ایگزیکٹو کے طور پرتنویر اعوان پولیس گردی کے خلاف جہاد کررہے تھے۔اٹک پولیس نے خود احتسابی کرنے کی بجائے صحافیوں پر جعلی مقدمے بنانے کی روایت برقرار رکھی ۔ڈی پی او اٹک رانا محمد شعیب کی معنی خیز خاموشی سے کئی سوالات جنم لے رہے ہیں ،ڈی پی او اٹک نے بھی محکمے میں چھپی کالی بھیڑوں کے خلاف لینے کی بجائے آئینہ دکھانے والے کے خلاف کارروائی کو ذمہ دارای سمجھ لیا ۔دوسری جانب سینئر صحافی تنویر اعوان کے اہل خانہ نے اٹک پولیس کی کارروائی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک دن گزر جانے کے باوجود تاحال ہمیں اور ہمارے وکلاء کو ایف آئی آر کی نقل فراہم نہیں کی جارہی ہے جس سے اٹک پولیس کی جانبداری عیاں ہوتی ہے،اہل خانہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جیسا کہ اٹک پولیس جعلی پولیس مقابلے کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتی ،تنویر اعوان کو بھی ماورائے عدالت قتل کر دیا جائے انکی جان کو شدید خطرات لاحق ہیں ۔آئی جی پنجاب ،وفاقی وزیر داخلہ انکی گرفتاری کا نوٹس لیکر انہیں نہ صرف تحفظ فراہم کریں بلکہ انصاف بھی فراہم کیا جائے ۔واضح رہے کہ صحافتی تنظیموں نے تنویر اعوان کے خلاف بے بنیاد مقدمے کے اندراج کے خلاف احتجاج کی کال دے دی اورآج (بروز جمعہ)صبح دس بجے ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او)راولپنڈی کے دفتر کے گھیرائو اور دھرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تنویر اعوان کی رہائی تک احتجاج کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری رہے گا۔ صحافتی تنظیموں کے ذمہ داران کا کہنا تھا کہ اٹک پولیس اپنی ناکامیاں اور کرتوت چھپانے کیلئے تنویر اعوان جیسے معتبر صحافی کو انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے۔تنویر اعوان نے حال ہی میں اٹک پولیس کی جعلی کارروائیوں پر سے پردہ اٹھایا تھا جس کا پولیس کو رنج تھا۔ متعدد معاملات میں پولیس مقدمہ تو درج کر لیتی ہے لیکن اتنی عجلت میں گرفتاری نہیں کی جاتی جبکہ اٹک پولیس نے تنویر اعوان کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کے دوران ہی انہیں گرفتار بھی کر لیا اور پھر ایف آئی آر بھی سیل کر دی۔ صحافتی تنظیموں کے ذمہ داران نے وفاقی وزیر داخلہ، صوبائی وزیر قانون،آئی جی پنجاب اور آر پی او راولپنڈی سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائی جائیں تنویراعوان کے خلاف مقدمہ فوری طور پر خارج کر کے فی الفور رہا کیا جائے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button